گھریلو ملازمین کا بلندو بالا کھڑکیوں کی صفائی پر پابندی کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ہانگ کانگ میں گھروں میں کام کرنے والی ملازمین اس مطالبے کے ساتھ سڑکوں پر موجود ہیں کہ ان کے لیے بلندوبالا عمارتوں کی کھڑکیوں کے شیشے صاف کرنے کے حوالے سے پابندی عائد کی جائے۔

حالیہ مہینوں میں ہلاک ہونے والے متعدد ملازمین کی ہلاکتوں کے بعد یہ مظاہرہ کیا گیا ہے۔

٭ سعودی عرب میں ملاممائیں کہاں سے منگوائیں

اس کے علاوہ ملازمین نے تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ بھی کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کے کام کرنے کے اوقات مقرر کیے جائیں اور انھیں رہنے کے لیے بہتر جگہ فراہم کی جائے۔

ایشیا کے تارکینِ وطن کے رابطے کی تنظیم کے ترجمان ایمان ویلانیوا نے ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کو بتایا کہ ’ ہم پرامید ہیں کہ ہمارے مطالبات کو مانا جائے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان مطالبات کو مسترد کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہوسکتی۔

رواں ماہ کے آغاز میں فلپائن سے تعلق رکھنے والی ایک 35 سالہ ملازمہ اپنے مالک کے فلیٹ کی کھڑکی سے اس وقت نیچے گر کر ہلاک ہو گئی تھی جب وہ کھڑکیاں صاف کر رہی تھی۔

اعدادوشمار کے مطابق گھروں میں کام کرنے والی تین ملازمائیں بھی رواں برس ہی یا تو کسی حادثے کا شکار ہوئیں یا انھوں نے خودکشی کر لی۔

ایمان ویلانیوا جو کہ خود بھی فلپائن سے تعلق رکھتے ہیں اور گھریلو ملازم ہیں کا کہنا ہے کہ کہ گھروں کی کھڑکیاں صاف کرنا گھریلو ملازمین کا کام نہیں ہے، یہ رہایشی عمارتوں کا انتظام دیکھنے والوں کی ذمہ داری ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس قسم کے کاموں کے لیے خصوصی سامان اور تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔

’کتّوں کے گھر‘

اس مظاہرے میں بیرونِ ملک سے آنے والے گھریلو ملازمین کی تنخواہوں میں 645 ڈالر اضافے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ نے ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ گھریلو ملازمین ہانگ کانگ میں 12 گھنٹے کام کرتے ہیں لیکن اس میں 40 فیصد لوگوں کے پاس رہنے کے لیے اپنا ایک کمرہ بھی نہیں ہے۔

.ایمان ویلانیوا کا کہنا تھا کہ گھریلو ملازمین ’بکسوں‘ میں رہتے ہیں جو کہ کتّے کے گھر جیسے ہیں۔

اسی بارے میں