’ہاں، میں مر گیا تھا اور پھر زندہ ہوگیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 92 سالہ صدر موگابے سنہ 1980 سے اقتدار میں ہیں

زمبابوے کے صدر رابرٹ موگابے نے اپنی صحت سے متعلق افواہوں پر طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مر گئے تھے اور پھر دوبارہ زندہ ہوگئے۔

92 سالہ رابرٹ موگابے ہرارے کے ہوائی اڈے پر پہنچے تو جہاز سے اترتے ہوئے خاصے خوش مزاج دکھائی دیے۔

فلائٹ ڈیٹا کے مطابق اس کا جہاز مشرقی ایشیا کی جانب پرواز کر رہا ہے اور پھر دبئی اتر گیا۔

رابرٹ موگابے کا کہنا تھا کہ وہ کسی خاندانی کام کے سلسلے میں وہاں گئے تھے۔

مئی میں رابرٹ موگابے کی اہلیہ گریس کا کہنا تھا کہ وہ قبر سے بھی حکمرانی کر سکتے ہیں۔

ان کے ہوائی سفر اور دیگر افواہوں کی بنا پر یہ قیاس آرائیاں کی گئیں تھیں کہ رابرٹ موگابے سخت بیمار ہیں اور دبئی میں وہ علاج معالجے کے سلسلے میں گئے ہیں یا پھر وہ بیماری کے باعث انتقال کر گئے ہیں۔

دی ساؤتھرن ڈیلی ویب سائٹ پر ایک خبر شائع ہوئی جس کی سرخی تھی ’رابرٹ موگابے فالج کا شکار۔ مننگاگوا اب زمبابوے کے قائم مقام صدر ہیں۔‘

واضح رہے کہ ایمر مننگاگوا ملک کے نائب صدر ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption زمبابوے سیاسی اور معاشی بحران کا شکار ہے

تاہم برطانوی خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق ہرارے پہنچنے پر رابرٹ موگابے نے نامہ نگاروں کا مقامی شونا زبان میں بتاتا کہ ’وہ کسی خاندانی کام کے سلسلے میں دبئی گئے تھے جو میرے ایک بچے سے متعلق تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہاں، میں مر گیا تھا، یہ سچ ہے میں مرا ہوا تھا۔ میں دوبارہ زندہ ہوگیا جیسا کہ میں ہمیشہ ہوتا ہوں۔ جب میں اپنے ملک واپس آجاتا ہوں تو صحیح ہوجاتا ہوں۔‘

واضح رہے کہ صدر موگابے سنہ 1980 سے اقتدار میں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ سنہ 2018 کے انتخابات میں بھی حصہ لیں گے۔

زمبابوے سیاسی اور معاشی بحران کا شکار ہے اور حکومت پر بدعنوانی کے الزامات ہیں۔

گذشتہ ہفتے ہرارے میں مظاہروں کا سلسلہ جاری تھا جس میں درجنوں افراد کو گرفتار کیا گیا۔

جمعرات کو پولیس کی جانب سے دارالحکومت ہرارے میں دو ہفتوں کے لیے مظاہروں پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

دوسری جانب صدر موگابے نے حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کا بھی عندیہ دیا ہے۔

اسی بارے میں