فرانس: تارکین وطن کے کیمپ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کیلے کے اس کیمپ میں 7،000 ہزار سے بھی زیادہ پناہ گزین بہت ہی گندی حالت میں رہتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے تو برطانیہ پہنچنے کے لیے لاریوں میں کود جاتے ہیں

فرانس کے شمال میں کیلے کی بندر گاہ کے قریب پناہ گزينوں کے ایک کیمپ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ جاری ہے جس میں ہزاروں لوگ اس کیمپ کو بند کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین نے بندرگاہ کی ایک اہم شاہراہ کو بلاک کر رکھا ہے اور بندرگاہ کی طرف جانے والے راستے پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنا کر ٹریفک روک دی گئی ہے۔ اس احتجاج کے باعث رود بارِ انگلستان (انگلش چینل) پر مسافرین کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

مظاہرین میں شامل ٹرک ڈرائیوروں اور ٹریکٹروں پر سوار کسانوں نے اہم شاہراہ اے۔16 پر ٹریفک کو انتہائی سست کر دیا ہے۔ بندرگاہ کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایک متبادل راستہ فراہم کیا جا رہا ہے اور انگلش چینل پار کرنے والی کشتیاں اپنے مقررہ وقت پر چل رہی ہیں۔

جنگل کے نام سے معروف اس کیمپ میں تقریباً 7،000 افراد رہائش پزیر ہیں اور ان میں سے زیادہ تر کا تعلق شام، عراق، افغانستان اور، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے دیگر ممالک سے ہے۔

کیلے کے اس کیمپ میں رہنے والے پناہ گزین بہت ہی گندی حالت میں رہتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے تو برطانیہ پہنچنے کے لیے قریب سے گزرنے والے ٹرکوں اور گاڑیوں میں کھود جاتے ہیںآ۔

Image caption اس کیمپ میں مقیم زیادہ تر افراد کا تعلق مشرقی وسطی، افغانستان اور افریقہ سے ہے جو غیر قانونی طریقے سے یہاں پہنچے ہیں اور اب وہ کسی بھی صورت میں انگلش چینل پار کرنا چاہتے ہیں

مظاہرین کا کہنا ہے کہ اس کیمپ کی وجہ سے شہر کی حالت ابتر ہوتی جارہی ہے اور بندرگاہ پر بھی اس سے افرا تفری پھیلتی ہے۔ مقامی افراد کا اس کیمپ کے خلاف یہ پہلا اتنا بڑا مظاہرہ ہوگا۔

مظاہرے میں کیلے شہر کی میئر ناطشہ بوشارٹ بھی شامل ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اب حالت ناقابل برداشت ہوچکی ہے۔

چند ماہ پہلے ہی کی بات ہے اس کیمپ کو بند کرنے کی غرض سے حکام نے اس علاقے میں قائم بہت سی جھگیوں کو مسمار کر دیا تھا۔

فرانس کے وزیر داخلہ برنارڈ کیزنیوا نے اتوار کو کہا کہ حکومت کا اب بھی اس کیمپ کو بند کرنے کا ارادہ ہے۔

گذشتہ ہفتے ہی فرانس اور برطانیہ نے مشترکہ طور پر کیلے کی بندرگاہ کی سکیورٹی بہتر کرنے اور وہاں پر رہنے والے ہزاروں بے گھر افراد کی حالت کو بہتر بنانے کا عہد کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ جو افراد پناہ حاصل کرنے کے قابل نہیں ہیں انھیں ان کے ملک واپس بھیجا جائے گا۔

چند روز پہلے ہی کارکنان نے کہا تھا کہ انھیں کیمپ سے تقریباً 400 سو ایسے بچے ملے ہیں جن کے دعوے دار کوئی بھی نہیں ہے اور وہ برطانیہ منتقل ہونے کے حقدارہیں۔ برطانیہ کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ایسے 150 بچوں کو اس برس رہائش مہیا کرے گا۔

کیمپ میں موجود ایک سوڈانی پناہ گزین نے بی بی سی کو بتایا کہ جس انداز سے مقامی لوگ انھیں دیکھتے ہیں اس سے وہ کافی دکھی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ تمام پناہ گزین جو متنازع علاقوں سے آنے کے بعد یہاں پر جمع ہوئے ہیں وہ اب بس پُرامن طریقے سے رہنا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں