شہروں کےمیئرز کی تربیت کےلیےمرکز قائم

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کئی ارب ڈالروں کے نگران سیاست دانوں کے لیے بس یہ دیکھا جاتا ہے کہ الیکشن کون جیتا ہے اور پھر بس امید کہ انھیں پتہ ہو کہ وہ کیا کر رہے ہیں

آپ شہر کا میئر بننے کے لیے تیاری کیسے کر سکتے ہیں؟

کسی شہر کی انتظامیہ چلانا ایک اہم ذمہ داری ہوتی ہے۔ اس میں ہزاروں اہلکاروں اور لاکھوں لوگوں کے لیے سروسز کی فراہمی شامل ہو سکتی ہے۔

لیکن ایسے بڑے فیصلے کرنے کے لیے آپ کو کون سے تجربات تیار کرتے ہیں؟

بڑی بڑی کمپنیاں تو ہر سال اس بات کو یقینی بنانے پر لاکھوں ڈالر خرچ کرتی ہیں کہ ان کے اعلیٰ ترین اہلکاروں کو بہترین بزنس سکولوں تک رسائی ہو۔

مگر کئی ارب ڈالروں کے نگران سیاست دانوں کے لیے تو یہ دیکھا جاتا ہے کہ الیکشن کون جیتا ہے اور پھر بس امید کہ انھیں پتہ ہو کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔

اس حوالے سے اکثر تربیت یافتہ پیشہ ورانہ افراد کے بجائے غیر معمولی طور پر ذہین ناتجربہ کار افراد پر انحصار کیا جاتا ہے۔

امریکہ میں اس حوالے سے ایک جدت متعارف کروائی جا رہی ہے جس کا مقصد تربیت اور ذمہ داری کے درمیان اس خلیج کو پُر کرنا ہے۔

Image caption اس پروگرام میں امریکی شہروں کے علاوہ اہم شہروں جیسے لندن کے میئر بھی شریک ہو سکیں گے

یہ جدت میئرز کے لیے ایک خصوصی سکول ہے اور اسے دنیا کا سب سے بڑا شہری تربیتی پروجیکٹ کہا جا رہا ہے۔

بلومبرگ ہارورڈ سٹیز لیڈرشپ انیشٹیوو 3.2 کروڑ ڈالر کی لاگت سے تیار کردہ ایک تربیتی سکیم ہے جس میں حاضر سروس میئرز اور ان کے سینیئر معاونوں کو تربیت دی جائے گی تاکہ وہ مشکل فیصلے کر سکیں۔

اس سکیم کے لیے مالی امداد بلومبرگ پلین تھروپیز نامی فلاحی تنظیم سے آئی ہے جسے امریکہ میں معروف ترین میئرز میں سے ایک مائیکل بلومبرگ نے قائم ہے۔ مائیکل بلومبرگ تین مرتبہ امریکی شہر نیویارک کے میئر بن چکے ہیں۔

آئندہ چار سالوں میں یہ تربیتی سکیم تین سو میئرز اور ان کے 400 معاونوں کو ہارورڈ بزنس سکول اور ہارورڈ کینیڈی سکول آف گورنمنٹ کی مدد سے تربیت دے گی۔ میئر طلبہ کے لیے اس سکول میں کوئی فیس نہیں ہو گی۔

اس سال امریکی شہر فلاڈیلفیا کا دوسری بار میئر بننے والے مائیکل نٹر کا کہنا ہے کہ میئرز کے لیے ایسی تربیت انتہائی ضروری ہے۔ ان کے دور میں فلاڈیلفیا کا سالانہ بجٹ چار ارب ڈالر تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اس سکیم کے لیے مالی امداد بلومبرگ پلین تھروپیز نامی فلاحی تنظیم سے آئی ہے جسے امریکہ میں معروف ترین میئرز میں سے ایک مائیکل بلومبرگ نے قائم کیا ہے

ان کا کہنا ہے کہ ’انتخابی مہم اور چیز ہے اور حکومت چلانا اور چیز۔ جیسے ہی کوئی میئر منتخب ہوتا ہے تو اسے فوراً پیچیدہ فیصلوں کا سامنا ہوتا ہے اور اکثر انھیں ان معاملات میں کوئی خصوصی تربیت حاصل نہیں ہوتی۔‘

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اکثر ایسے معاملوں میں کوئی ایک درست راستہ نہیں ہوتا۔ یہ آسان سوالات نہیں ہوتے اور ان کے جواب واضح نہیں ہوتے۔ یہ آپ کی ججمنٹ (فیصلے) پر منحصر ہوتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ انتخابات میں کامیابی کا یہ مطلب نہیں کہ آپ بہت ذہین ہیں یا آپ کو سب کچھ معلوم ہے۔

’قیادت ایک تنہائی ہے‘

ان کا کہنا ہے کہ قیادت تنہا کام ہے۔ اسی وجہ سے میئرز کے لیے یہ مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ سیاسی طور پر منافع بخش اور آسان راستہ چنیں یا قدرے مشکل اور قدرے کم مقبول فیصلہ کریں۔

انھوں نے بتایا کہ ہارورڈ کا یہ پروجیکٹ انفرادی طور پر رہنمائی فراہم کرے گا اور اس سے ان میئرز کو بہت زیادہ فائدہ ہوگا جو کہ غیر جانبدارانہ تجویز کو ترس رہے ہوں۔

’آپ کو ایسا شخص چاہیے ہوتا ہے جو غیر جانبدار ہو اور جس کا فیصلے سے متعلق کوئی ذاتی مقصد نہ ہو یا انھوں نے کسی بدلہ نہ لینا ہو۔‘

’ہو سکتا ہے کہ آپ کسی فیصلے کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہوں مگر جس ماحول میں جتنے دوست ہوں اتنے ہی دشمن، وہاں آپ شاید اس بے یقینی کا اعتراف نہ کر سکیں۔‘

’آپ اپنے لوگوں کے ساتھ بھی کسی اجلاس میں بیٹھ کر یہ نہیں کہ سکتے کہ آپ خوفزدہ ہیں۔‘

انھوں نے ایسے فیصلوں کی مثال دی کہ اگر باہر 20 انچ برف پڑی ہو تو کیا میئر کو تمام ٹرکوں کو روک دینا چاہیے؟ اس کے غیر جانبدارانہ اقتصادی اثرات کیا ہیں یا لوگوں کی جانوں کو کتنا خطرہ ہے؟ دوسری طرف ان کے مخالف منفی اثرات کو اچھالیں گے۔

میئرز کے لیے کلاس روم میں شاید ایسے چیلنجوں کا سامنا کرنے کی تربیت دی جائے گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں