ہانگ کانگ انتخابات: ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption 30 نشتیں ایسی ہیں جن کا فیصلہ صرف چھ فیصد آبادی کرے گی

ہانگ کانگ میں سنہ 2014 میں جہموریت کی حمایت میں ہونے والے احتجاج کے بعد عام انتخابات کے لیے ووٹنگ مکمل ہو چکی ہے اور اب گنتی کا عمل جاری ہے۔

٭ ہانگ کانگ مظاہروں میں بیرونی طاقتیں ملوث ہیں

٭ مظاہرین دوبارہ گلیوں کا رخ نہ کریں

اطلاعات کے مطابق سنہ 1997 میں یہ خطہ چین کے حوالے ہونے کے بعد یہ پہلی بار ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں عوام ووٹ کے لیے گھروں سے نکلے ہیں۔

سنہ 2008 میں 45.2 فیصد کے ٹرن آوٹ کے مقابلے میں اتوار کو 38 لہاکھ رجسٹرڈ وٹرز کا ٹرن آؤٹ 58 فیصد رہا۔

ملک کی مرکزی جماعتیں بیجنگ کے ساتھ زمینی تعلقات کے حوالے سے الگ الگ نقطہ نظر رکھنے کی وجہ سے تقسیم ہو چکی ہیں۔

ووٹرز 35 اراکینِ اسمبلی کو ان کے جغرافیائی حلقوں کی بنا پر چنیں گے جبکہ 35 افراد مخصوص تجارتی شعبوں میں نمائندگی کے لیے چنے جائیں گے۔

اس شہر میں مکمل جمہوریت نہیں اور ہر شخص ہر نشست کے لیے ووٹ نہیں ڈال سکتا۔

30 نشتیں ایسی ہیں جن کا فیصلہ صرف چھ فیصد آبادی کرے گی۔

پولنگ کا عمل مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑے سات بجے شروع ہوا تھا جو کہ 15 گھنٹے تک جاری رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption احتجاجی تحریک کا مقصد چینی حکومت کی جانب سے بنائے گئے ان قوانین کی منسوخی بھی تھا جس کے تحت چین ہانگ کانگ میں سنہ 2017 میں منتخب چیف ایگزیکٹو کی چھان بین کر سکتا ہے

لیکن اس ووٹنگ کے ذریعے حکومتی سربراہ یعنی چیف ایگزیکٹیو کا چناؤ ممکن نہیں ہے۔ لیکن تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اتوار کے روز ہونے والے انتخابات کے نتیجے کا اس بات پر بہت انحصار ہوگا کہ چین موجود سربراہ سی وائی لیونگ کو دوسری مرتبہ ہناگ کانگ میں اقتدار دےگا یا نہیں۔

سنہ 2014 میں دو ماہ تک مظاہرین نے یہی مطالبہ کیا تھا کہ انھیں اپنے لیڈر کے چناؤ کا براہ راست حق حاصل ہونا چاہیے۔

اس احتجاجی تحریک کا مقصد چینی حکومت کی جانب سے بنائے گئے ان قوانین کی منسوخی ہے جس کے تحت چین ہانگ کانگ میں سنہ 2017 میں منتخب چیف ایگزیکٹو کی چھان بین کر سکتا ہے۔

اس وقت میدان میں تین گروپوں کے درمیان مقابلہ ہے۔

پہلا گروپ بیجنگ کا حامی ہے جو تجارت کا حامی ہے۔

دوسرا گروہ روایتی جمہوری پارٹیوں پر مشتمل ہے جسے پین ڈیموکریٹس بھی کہا جاتا ہے۔

تیسرا گروہ لوکلسٹ کہلاتا ہے۔یہ گروہ سمجھتا ہے کہ حکومت کے ساتھ اس پرمزید جھگڑا ہونا چاہیے کہ ہانگ کانگ کو مزید خودمختاری دی جائے۔ جبکہ ان میں کچھ ایسے ہیں جو مکمل آزادی کے حامی ہیں۔

لیجیسلیٹیو کونسل قانون اور بجٹ پاس کرتی ہے۔

یہاں نام نہاد 30 فنکشنل حلقے ہیں جن میں تجارتی گروہوں جیسے کہ انشورنس، کیٹرنگ یا تعلیمی شعبے سے منسلک لوگ شامل ہیں۔ لیکن ان چناؤ کے لیے ووٹنگ صنعتوں میں کمپنی کے نمائندے کرتے ہیں۔

جو بھی فنکشنل حلقے میں شامل نہ ہو وہ پانچ حتمی نشتوں کے لیے ووٹ ڈال سکتا ہے۔

اگرچہ ہانگ کانگ میں 37 لاکھ ووٹرز ہیں مگر لیجیسلیٹیو کونسل کی 30 نشتوں کے انتخابات میں اراکین کا چناؤ کرنے کا اختیار فقط دو لاکھ 39 ہزار 724 ہے۔

اسی بارے میں