انتقامی پورن شائع کرنے پر 206 افراد کے خلاف کارروائی

تصویر کے کاپی رائٹ SCIENCE PHOTO LIBRARY
Image caption انتقامی پورن کے واقعات میں عموماً کسی کا سابقہ ساتھی اس کی جنسی نوعیت کی تصاویر کو انٹرنیٹ پر شائع کر دیتا ہے تاکہ اس کے ہدف کو شرمندگی کا سامنا ہو

برطانیہ میں خواتین کے خلاف جرائم سے متعلق کراؤن پروسیکیوشن سروس کی ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال انگلینڈ اینڈ ویلز میں انتقامی پورن کا نیا قانون بننے کے بعد 200 سے زیادہ افراد کے خلاف کارروائی کی جا چکی ہے۔

عوامی پروسیکیوشنز کی ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ ان مقدمات میں سے زیادہ تر سوشل میڈیا یعنی سماجی روابط کی ویب سائٹوں کے ذریعے کیے جانے والے جرائم شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان جرائم میں متاثرہ افراد کو کنٹرول کرنے اور دھمکانے کے لیے انٹرنیٹ کے استعمال کا رجحان بڑھ رہا ہے۔

برطانوی پولیس کے پاس جتنے مقدمے آتے ہیں ان کا 18.6 فیصد حصہ گھریلو تشدد اور جنسی جرائم پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ مقدمات اور سزاؤں کے اعداد و شمار بھی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے ہیں۔

خواتین کے خلاف جرائم سے متعلق یہ سالانہ رپورٹ 2007 سے جاری کی جا رہی ہے اور اس میں مردوں اور نوجوان لڑکوں کے خلاف جنسی جرائم کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔

انتقامی پورن کے واقعات میں عموماً کسی کا سابقہ ساتھی اس کی جنسی نوعیت کی تصاویر کو انٹرنیٹ پر شائع کر دیتا ہے تاکہ ان کے ہدف کو شرمندگی کا سامنا ہو۔

کسی کی ذاتی تصاویر کو بغیر ان کی اجازت کے شائع کرنے کو اپریل 2015 میں جرم قرار دے دیا گیا اور اس کی زیادہ سے زیادہ سزا دو سال قید مقرر کی گئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق قانون لاگو ہونے کے پہلے سال میں 206 افراد کو جنسی نوعیت کی نجی تصاویر شائع کرنے کے جرم میں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ استغاثہ کو کارروائی کے لیے کتنے مقدمات بھیجے گئے۔

تاہم بی بی سی کی تحقیق کے مطابق پولیس کو 2015 میں اپریل سے دسمبر کے دوران کم از کم 1160 شکایات بھیجی گئیں۔ اس تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ متاثرین کی کم سے کم عمر 11 برس تھی، تاہم 61 فیصد شکایات میں کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس کی بڑی وجوہات میں شواہد کی کمی یا متاثرہ افراد کی جانب سے کارروائی کے لیے شواہد یا بیانات واپس لے لینا ہے۔

عوامی پروسیکیوشنز کی ڈائریکٹر ایلیسن سینڈرز کا کہنا ہے کہ جنسی جرائم کے مقدمات چلانے کے طریقہ کار میں تبدیلی کی وجہ سے مجرمان کے خلاف کارروائی کرنے میں مدد مل رہی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ انھوں نے ریپ اور دیگر جنسی جرائم سے نمٹنے والے مخصوص یونٹس میں وسائل دوگنے کر دیے اور اس حوالے سے استغاثہ کے اہلکاروں کو خصوصی تربیت دی گئی۔

’آج ریپ، جنسی جرائم یا بچوں کے خلاف جنسی جرائم کی صورت میں کارروائی اور سزا ہونے کا امکان پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ تاہم ابھی بھی متاثرہ افراد کے ساتھ جیسا سلوک ہونا چاہیے۔ اس کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے جنسی جرائم کی ایک نئی دنیا کھل گئی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں