چینی بچوں کے نام رکھنے سے 48 ہزار پاؤنڈ کی کمائی

Image caption بو جیسپ کا کہنا ہے کہ انھوں یہ عجیب لگتا ہے کہ انھوں نے دو لاکھ کے قریب بچوں کے نام رکھے ہیں

برطانیہ میں ایک 16 سالہ لڑکی نے چینی افراد کے لیے بچوں کے انگریزی نام رکھنے کی ویب سائٹ بنا کر اس سروس سے 48 ہزار پاؤنڈ کمائے ہیں۔

گلوسٹرشائر سے تعلق رکھنے والی بو جیسپ کو ایسی ویب سائٹ بنانے کا خیال اپنی فیملی کے ساتھ چین کا دورہ کرنے کے بعد آیا۔

وہ اپنے دوستوں کے ساتھ باہر کھانے پر گئی ہوئی تھیں جب انھیں کہا گیا کہ وہ ایک نومولود بچے کا انگریزی نام رکھیں۔ چین میں انگریزی نام ہونے کو اہم سمجھا جاتا ہے تاکہ مستقبل میں بچے انگریزی ممالک میں کاروبار یا تعلیم کے مقاصد حاصل کر سکیں۔

’سپیشل نیم‘ نامی ویب سائٹ میں صارفین سے کہا جاتا ہے کہ وہ شخصیت سے متعلق ایسی پانچ خصوصیات چنیں جو وہ اپنے بچے میں دیکھنا چاہتے ہیں۔

چین میں بچوں کے نام قدرتی عناصر کی بنیاد پر رکھے جاتے ہیں اور بو کا مقصد تھا کہ وہ انگریزی میں نام چننے کے عمل میں ایسا ہی کوئی طریقہ استعمال کریں۔

اسی لیے بو ہر انگریزی نام کے ساتھ شخصیاتی خصوصیات منسلک کر دیتی ہیں۔ صارفین بچے کی جنس بتاتے ہیں اور تقریباً 60 پینس فیس ادا کرتے ہیں۔

اس کے بعد تین منتخب ناموں کے بارے میں صارفین کے دوستوں سے مشورہ کیا جاتا ہے۔ ہر منتخب نام کو اس کے مطلب کے ساتھ ایک سرٹیفیکیٹ پر چھاپا جاتا ہے اور اس کے ساتھ اسی نام والے کسی مشہور شخص کی مثال بھی دی جاتی ہے۔

بو کا کہنا ہے کہ جب ان سے پہلی بار کسی کا نام رکھنے کے لیے کہا گیا تو وہ بہت حیران ہوئیں۔ ’میں اس کام کے لیے موزوں نہیں تھی نہ ہی میں اس بچے کے بارے میں جانتی تھی۔‘ مگر جب بو نے کچھ مجوزہ مضحکہ خیز نام سنے تو انھوں نے کہا مجھے کچھ کرنا ہو گا۔ مثال کے طور پر کسی نے اپنے بچے کا نام گھڑیاں بنانے والی مشہور کمپنی رولیکس رکھا ہوا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ ایسی بہت سی مثالیں ہیں جہاں لوگوں نے شاید غیر موزوں نام رکھ لیے ہیں۔

بو بتاتی ہیں کہ چین میں لوگ مغربی ثقافت اور ناموں کے مداح ہیں تاہم حکومت کے غلبے کے باعث اس تک ان کی رسائی کم ہے۔

’چین میں انٹرنیٹ تک مکمل رسائی نہیں اسی لیے لوگ ناموں کے لیے استعمال ہونے والی عام ویب سائٹیں استعمال نہیں کر سکتے۔ وہ امریکی فلموں جیسے ’ہیری پوٹر،‘ ’لارڈ آف دی رنگ‘ وغیرہ سے الفاظ چنتے ہیں۔ ایک دفعہ مجھ معلوم ہوا کہ کسی کا نام گینڈولف اور کسی کا نام سنڈریلا تھا۔‘

بو کو یہ معلوم نہیں کہ ان کی ویب سائٹ پر سب سے مقبول نام کون سا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد انفرادی نام رکھنا ہے اس لیے ان کی رجحان کی جانب توجہ نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ انھوں یہ عجیب لگتا ہے کہ انھوں نے دو لاکھ کے قریب بچوں کے نام رکھے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کی ویب سائٹ کی کامیابی ان کے لیے ایک خوشگوار حیرت کا باعث ہے، اور انھوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ اتنی پھیل جائے گی۔

اسی بارے میں