شدت پسند مبلغ انجم چوہدری کو ساڑھے پانچ سال کی سزا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption انسدادِ دہشت گردی کے اداروں کے متعدد سربراہان کا کہنا ہے کہ انجم چوہدری اور ان کی مختلف تنظیمیں مثلاً المہاجرون نوجوان مردوں اور عورتوں کو شدت پسندی کی طرف راغب کرنے کی ذمہ دار ہیں

دولتِ اسلامیہ کی حمایت کرنے والے شدت پسند مبلغ انجم چوہدری کو ساڑھے پانچ سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔

خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم سے وفاداری کا آن لائن حلف اٹھانے والے 49 سالہ انجم چوہدری کو اولڈ بیلی میں مجرم قرار دیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ چوہدری کے پیروکاروں نے برطانیہ اور دوسرے ملکوں میں حملے کیے ہیں۔

جج نے چوہدری کو خطرناک اور سوچ سمجھ کر کام کرنے والا قرار دیا۔ اس کے علاوہ ان کے ساتھی میزان الرحمٰن کو بھی یہی سزا دی گئی۔

عدالت میں دونوں ملزمان کی وہ تقاریر بھی سنائی گئیں جن میں انھوں نے لوگوں کو دولتِ اسلامیہ کی حمایت پر اکسانے کی کوشش کی۔

لندن کے نواحی علاقے الفرڈ سے تعلق رکھنے والے انجم چوہدری اور پامر گرینز کے علاقے کے میزان الرحمٰن کو گذشتہ ماہ دہشت گردی ایکٹ کی شق 12 کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔

انسدادِ دہشت گردی کے اداروں کے متعدد سربراہان کا کہنا ہے کہ انجم چوہدری اور ان کی مختلف تنظیمیں مثلاً المہاجرون نوجوان مردوں اور عورتوں کو شدت پسندی کی طرف راغب کرنے کی ذمہ دار ہیں، جن میں 2013 میں قتل کیے جانے والے فوجی لی رگبی کے قاتل بھی شامل ہیں۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ کئی سالوں سے وہ انجم چوہدری کے خلاف کارروائی نہیں کر سکے تھے کیونکہ وہ قانون کے دائرے کے اندر رہ کر کام کر رہے تھے۔

سزا سناتے ہوئے جج جسٹس ہولروئڈ کا کہنا تھا کہ دونوں ملزمان نے جائز آزادیِ رائے کے اظہار سے تجاوز کرتے ہوئے مجرمانہ اقدامات کیے۔ انھوں نے ملزان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی تقاریر سننے والوں میں بہت سے ایسے کچے ذہن کے افراد تھے جو آپ سے رہنمائی چاہتے تھے۔

اسی بارے میں