کیتھ واز پارلیمانی کمیٹی کی سربراہی سے مستعفی

تصویر کے کاپی رائٹ HoC

سیکس سکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد انڈین نژاد برطانوی رکن پارلیمان کیتھ واز داخلہ امور کی سٹینڈنگ کمیٹی کی سربراہی سے مستعفی ہو گئے ہیں۔

انھوں نے یہ استعفیٰ اخباروں میں چھپنے والے ان الزامات کے بعد دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ انھوں نے دو مرد سیکس ورکرز کی خدمات حاصل کی ہیں۔

اس موقعے پر مسٹر واز نے کہا کہ انھوں نے یہ اقدام داخلہ امور کے بارے میں پارلیمانی سٹینڈنگ کمیٹی کے مفاد میں اٹھایا ہے تاکہ وہ اپنا اہم کام کسی بھی پریشانی کے بغیر انجام دے سکے۔

’مجھے اس بات پر انتہائی افسوس ہے کہ حالیہ واقعات نے میرے سربراہ رہنے کی صورت میں اس بات کو ناممکن بنا دیا ہے۔‘

پیر کے روز وزیر اعظم ٹریزا مے نے کہا تھا کہ یہ ضروری ہے کہ عوام کو سیاست دانوں پر اعتماد ہو جبکہ لیبر پارٹی کے رہنما جیریمی کوربن نے اسے ان کا ’نجی معاملہ‘ قرار دیا تھا۔

کیتھ واز کے حالاتِ زندگی

  • کیتھ واز کے والدین کا تعلق انڈین ریاست گوا سے ہے لیکن وہ 1956 میں یمن کے شہر عدن میں پیدا ہوئے۔
  • واز برطانیہ کی کیبمرج یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کر کے وکیل بنے تھے۔
  • وہ لیبر پارٹی کے ٹکٹ 1987 میں لیسٹر ایسٹ سے پہلی بار رکن پارلیمان منتخب ہوئے اور اس کے بعد سے وہ مسلسل جیتتے آ رہے ہیں۔
  • وہ برطانوی پارلیمان کے سب سے پرانے ایشیائی نژاد رکن ہیں اور 2007 سے پارلیمان کی داخلہ امور سے متعلق اہم سٹینڈنگ کمیٹی کے سربراہ ہیں۔
  • وہ ٹونی بلیئر کے دورِ حکومت میں یورپ کے وزیر تھے اور انھوں نے یورپی یونین چھوڑنے کے حالیہ فیصلے کو تباہ کن قرار دیا تھا۔
  • ان کی بہن ویلیری واز ساؤتھ والسال کے حلقے سے لیبر کی رکن پارلیمان ہیں۔

کیتھ واز: ’ٹیلی فون سیاست دان‘

تصویر کے کاپی رائٹ Sunday Mirror

اتوار کے روز برطانوی اخبار سنڈے مِرر نے کچھ تصاویر شائع کی تھیں جن میں اخبار کے بقول کیتھ واز اپنے شمالی لندن کے فلیٹ میں مرد سیکس ورکرز کے ہمراہ نظر آ رہے ہیں۔ خفیہ طور پر ریکارڈ کی گئی گفتگو میں غیر قانونی منشیات کا ذکر کیا جا رہا ہے۔

شادی شدہ اور دو بچوں کے باپ کیتھ واز کا کہنا تھا کہ وہ یہ الزامات اپنے وکیل کے حوالے کر رہے ہیں۔

کنزرویٹو پارٹی کے رکن پارلیمان اینڈریو برِجن کا کہنا ہے وہ یہ معاملہ دارالعوام کے سٹینڈرڈز کمشنر کو بھیجیں گے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اس بارے میں پولیس سے بھی رجوع کریں۔

لندن سے سابق میئر کین لیونگسٹن نے کیتھ واز کی حمایت کی ہے۔ بقول ان کے وہ واز کو 40 سال سے جانتے ہیں: ’میرے خیال میں نجی زندگی کو نجی ہی رہنے دیا جانا چاہیے۔ یہ الزامات ابھی ثابت نہیں ہوئے اور انھیں مسٹر واز کو جسم فروشی سے متعلق انکوائری کی سربراہی کرنے سے نہیں روکنا چاہیے۔ ‘

متعلقہ عنوانات