شامی فوج پر حلب میں کلورین سے بھرے بم گرانے کا الزام

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہنگامی حالات کے کارکنان کا کہنا ہے کہ سکاری کے علاقے میں ہیلی کاپٹروں سے کیے جانے والے حملوں کے بعد لوگ گھٹن کا شکار ہوگئے

شام میں حکومتی افواج پر حلب کے مضافات میں کلورین سے بھرے بیرل بم گرانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

شام میں موجود امدادی کارکنوں کے مطابق حکومتی افواج نے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ایسے بم گرائے جس سے کم ازکم 80 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

علاقے میں سرگرم رضاکاروں کا کہنا ہے کہ سکاری کے علاقے میں ایسے بیرل بم گرنے کے بعد لوگ گھٹن کا شکار ہوئے۔

اس رپورٹ کی ابھی تک آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہو پائی ہے۔

اس سے قبل اگست کے مہینے میں اقوام متحدہ کی ایک تفتیش میں پتہ چلا تھا کہ حکومت نے کم از کم دو جگہوں پر کلورین کا استعمال کیا تھا تاہم شام کی حکومت اس بات سے انکار کرتی رہی ہے کہ اس نے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ UGC
Image caption ایک رضاکار نے اس سے متعلق فیس بک صفحے پر ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے جس میں پریشان بچوں کو سانس لینے کے لیے ماسک پہنے دیکھا جا سکتا ہے

یہ الزامات ایسے موقع پر سامنے آئے ہیں جب شام میں حزبِ مخالف کے رہنما شامی تنازعے کے خاتمے کی کوششوں کے سلسلے میں سیاسی تبدیلی کے نئے منصوبے پر بات چیت کے لیے لندن میں جمع ہو رہے ہیں۔

شہری دفاع کے امدادی کارکن ابراہیم الحاج کا کہنا تھا کہ وہ حلب میں ہیلی کاپٹروں سے ہونے والے حملے کے فوراً بعد وہاں پہنچے جہاں ایسے بیرل بم گرائے گئے تھے جن میں کلورین کے چار سلینڈر موجود تھے۔

سیریئن سول ڈیفینس سے وابستہ ایک رضاکار نے اس سے متعلق فیس بک صفحے پر ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے جس میں پریشان بچوں کو سانس لینے کے لیے ماسک پہنے دیکھا جا سکتا ہے۔

اسی گروپ نے اگست کے مہینے میں بھی حکومت پر کلورین سے لیس بم سے حملہ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

روس، جو شام کے موجودہ حکمراں بشار الاسد کا حامی ہے ، باغیوں پر الزام عائد کرتا رہا کہ وہ بھی حلب کے ان علاقوں میں زہریلی گیسوں سے بھرے شیل فائر کرتے ہیں جہاں حکومت کا قبضہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اگست کے مہینے میں اقوام متحدہ کی ایک تفتیش میں پایا گیا تھا کہ حکومت نے کم از کم دو جگہوں پر کلورین کا استعمال کیا تھا

کلورین ویسے تو عام طور پر استعمال میں آنے والا ایک صنعتی کیمکل ہے لیکن کیمیکل ویپن کنونشن کے تحت بطور ہتھیار اس کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت شام میں تقریباً چھ لاکھ افراد محاصرے میں رہ رہے ہیں جبکہ مزید تین لاکھ افراد حلب کے شہر میں بری طرح سے پھنسے ہوئے ہیں۔

اتوار کے روز شام کی حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کی افواج نے حلب کے ان علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے جن پر گذشتہ ماہ باغیوں نے قبضہ کر لیا تھا تاہم ان تمام علاقوں پر ایک بار پھر سے حکومت کا محاصرہ ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں