روسی ٹرمپ کو کیوں پسند کرتے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption معررف روسی گلوکار کرکورف ٹرمپ کو امریکی صدر کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں

روس کے شہر سوچی میں سٹیج پر ملک کے نامور پاپ سٹار اپنے چمکتے دمکتے پروں والا لباس پھڑ پھڑاتے ہیں اور اپنا نیا رومانوی گیت پیش کرتے ہیں۔

گلوکار فلپ کرکوروف کا روس کا مائیکل جیکسن بھی کہا جاتا تھا۔ جس شخص نے انھیں ایسے مخاطب کیا تھا وہ امریکہ کی رپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ تھے۔

’اوہ، ڈونلڈ ٹرمپ، اوہ میرے خدا‘ کرکوروف کے سامنے جب میں نے ڈونلڈ ٹرمپ کا ذکر کیا تو انھوں نے حیرت کا ظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’جب ہم پہلی بار ملے تو مجھے احساس ہوا کہ ہم ایک دوسرے تو بہت، بہت برسوں سے جانتے ہیں۔‘

وہ دونوں ایک دوسرے کو واقعی دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ سے جانتے تھے۔ سنہ 1994 میں کرکوروف اور ان کی سابق اہلیہ الا پگاچیوا نے اٹلانٹک سٹی میں ٹرمپ کے تاج محل کیسینو میں فن کامظاہرہ کیا تھا۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’شو کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ ہمارے ڈریسنگ روم میں آئے۔ ہمیں ان کے اور ان کی تنظیم کی جانب سے تاج محل میں پرفارم کرنے والے پہلے روسی فنکار ہونے کی بنا پر ایک شاندار سونے کی ٹرافی ملی۔ جب الا اور میری طلاق ہوئی تو وہ ٹرافی میں نے اپنے پاس رکھ لی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ڈونلڈ ٹرمپ کا خیال ہے کہ بطور صدر وہ روس کے دوست ہوں گے

سنہ 2013 میں جب ڈونلڈ ٹرمپ مس یونیورس کا مقابلہ ماسکو لے کر گئے تو کرکوروف اس کے ججوں میں شامل تھے۔ وہ رپبکن پارٹی کے صدارتی امیدوار کے مہمان بھی رہے تھے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا خیال ہے کہ بطور صدر وہ روس کے دوست ہوں گے۔

کرکوروف نے مجھے بتایا کہ ’وہ اکثر روس میں مہمان ہوتے ہیں، وہ روس اور روسیوں سے پیار کرتے ہیں۔‘

’اگر ٹرمپ صدر بن گئے تو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بڑھیں گے، اور میں اس کی دعا کرتا ہوں۔ کیوں ہم دو بڑے ممالک ہیں، دو بڑی اقوام۔ ہمیں دوست بننا چاہیے۔‘

کرکوروف کے مشہور دوست بھی اسی قسم کا راگ الاپ رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ ’اگر ہم روس کے ساتھ چلتے ہیں تو کیا یہ اچھی بات نہیں ہو گی؟‘

انھوں نے عندیہ دیا تھا کہ وہ کرائمیا کو روس کو حصہ تسلیم کرنے کے بارے میں بھی غور کر سکتے ہیں، انھوں نے نیٹو کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور روس کے خلاف پابندیوں ختم کرنے اشارہ دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ٹرمپ مس یونیورس کا مقابلہ ماسکو لے کر گئے تھے

چنانچہ ایک امریکی صدارتی امیدوار کے لیے ماسکو نواز ہونا کتنا غیرمعمولی ہے؟

ماسکو میں تعینات رہنے والے سابق امریکی سفیر اور سٹینفرڈ یونیورسٹی میں انٹرنیشنل سڈیز کے ڈائریکٹر فریمن سپوگلی کہتے ہیں: ’ایسا کبھی نہیں ہوا۔ گذشتہ 70 یا اس سے زائد برسوں میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔‘

وہ کہتے ہیں: ’ٹرمپ روس کے بارے میں، پوتن کے بارے میں ذاتی طور پر جو بات کرتے ہیں، وہ کسی ڈیموکریٹ یا رپبلکن امیدوار یا کسی بھی دوسری سیاسی جماعت کے سیاستدان کے روایتی انداز سے کہیں بڑھ کر ہے۔‘

لیکن کیوں؟

کیا ڈونلڈ ٹرمپ پوتن کے تعینات کردہ ہیں؟ جیسا کہ ان کے کچھ ناقدین دعویٰ کرتے ہیں، وہ روسی ایجنٹ ہیں؟

شاید وہ روسی صدر ولادی میر پوتن کو بہت زیادہ سہرا دے رہے ہیں۔ وہ طاقتور ہیں لیکن شاید اتنے طاقتور نہیں کہ وہ امریکی انتخابات پر اثرانداز ہو سکیں۔

اس کے باوجود شکوک کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی پر سائبر حملے اور باعث شرمندگی ای میلز کا افشا ہونا روسی آپریشن تھا۔

Image caption ٹرمپ کی حمایت میں ماریہ نامی خاتون ماسکو میں امریکی سفارت خانے کے باہر

مائیکل مکفال کہتے ہیں: ’میرے خیال میں ہمیں خاصا یقین ہے کہ روسی تنظیموں نے وہ ای میلز ہیک کی تھیں اور وہ ان سسٹمز پر تھے۔

’ہمارے انٹیلی جنس کے لوگ نے یہ کہہ چکے ہیں اور سینیئر افراد نے یہ آف دی ریکارڈ کہا تھا۔ دوسرا ہم جانتے ہیں وکی لیکس نے وہ ای میلز جان بوجھ ٹھکانے لگائیں تاکہ ڈیموکریٹک کنونشن پر اثر انداز ہو سکیں اور سیکریٹری کلنٹن کو بطور امیدوار نقصان پہنچا سکیں۔

ہم یقینی طور پر یہ نہیں جانتے: کیا روسیوں نے وہ ای میلز وکی لیکس کو فراہم کیں یا انھوں نے کسی دوسرے ذرائع سے انھیں حاصل کیا؟ مجھے افسوس ہے کہ ہم یہ کبھی نہیں جان سکیں گے۔ روسیوں نے یہ منتقلی شاید وکی لیکس کو بتائے بغیر کی ہو گی کہ اس کے پیچھے وہ ہیں۔ لیکن بلاشہ اگر یہ سچ ہے تو تفصیلی ثبوت خاصا مضبوط ہے۔ یہ امریکہ میں انتخابات پر اثرانداز ہونے کی براہ راست کوشش ہے۔‘

ماسکو امریکی سیاست میں سازشوں کی تردید کرتا ہے۔

روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخرووا کا کہنا ہے کہ ’ہم اس میں شامل نہیں ہیں۔ ہم ڈونلڈ ٹرمپ، ہلیری کلنٹن یا دیگر امیدواروں کی مقامی انتخابات میں حمایت نہیں کر رہے۔ یہ ہمارا کام نہیں۔ امریکی عوام کو یہ فیصلہ کرنا ہے۔ میرے خیال میں پوریشن خاصی واضح، ایماندارانہ اور قابل تکریم ہے۔‘

اور ہیکنگ کے الزامات؟

ماریہ زخرووا نے مجھے بتایا: ’یہ ڈیموکریٹک پارٹی کے لوگ ہیں جنھیں نے روس پر الزام عائد کیا ہے۔ آپ کا خیال نہیں کہ یہ کھیل کا حصہ ہے؟ ہم اسے کھیل کے حصے کے طور پر ہی دیکھ رہے ہیں۔ ان کا کھیل: مقامی امریکی سیاست ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ماسکو امریکہ میں سیاسی سازشوں کی تردید کرتا ہے

اس کے باوجود ہلیری کلنٹن ماسکو کے بارے میں سخت موقف اختیار کر رہی ہیں اور ڈونلڈ ٹرمپ صدر پوتن کے معترف ہیں، کیا کریملن دوراہے پر خاموش کھڑا ہے؟

رشیا ان گلوبل افیئر کے ایڈیٹر ان چیف فیودر لکینوف کہتے ہیں: ’بلاشہ، روس ٹرمپ کو ترجیح دے گا۔‘

وہ کہتے ہیں: ’یہ خاصی قابل فہم بات ہے کہ روس ایسے امیدوار کو ترجیح دے گا جو بیانات دے رہا ہے۔ میں انھیں روس نواز نہیں کہوں گا، لیکن وہ روسی منظر نامے کے ہم آہنگ ہیں کہ دنیا کیسی ہونا چاہیے۔‘

دوسری جانب روسی مائیکل جیکسن یہ سب سمجھنے سے عاری ہیں۔

فلپ کرکوروف نے مجھے بتایا: ’میرے خیال میں یہ اچھا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ روس سے اتنی محبت کرتے ہیں۔‘

میں نے ان سے پوچھا کہ اگر ٹرمپ امریکہ کے صدر بن گئے تو؟

کرکوروف کا کہنا تھا کہ ’میں انھیں ذاتی طور پر مبارک باد دوں گا۔ میں انھیں خط لکھوں گا۔ قدم بڑھاؤ ڈونلڈ!‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں