امریکی صدارتی امیدوار:’یہ حلب کیا ہے؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

امریکہ کی صدارتی دوڑ میں ایک امیدوار کو اس وقت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب ان سے شام کے شہر حلب میں جاری جنگ اور بحران کے بارے میں سوال پوچھا گیا۔

گیری جانسن سے پوچھا گیا کہ اگر وہ صدر منتخب ہو جاتے ہیں تو وہ شام کے شہر حلب کے بارے میں کیا کریں گے۔ اس کے جواب میں جانسن نے کہا ’حلب کیا ہے؟‘

جانسن نے بعد میں اعتراف کیا کہ ان کا دماغ ماؤف ہو گیا تھا اور اس غلطی کے بعد سے وہ زیادہ احتیاط برتیں گے۔

اگرچہ جانسن ہلیری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں بہت پیچھے ہیں لیکن لوگ ان دونوں امیدواروں سے زیادہ خوش نہیں ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جانسن اس بات کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ایم ایس این بی سی کے پروگرام میں پینلسٹ مائیک برینیکل نے جانسن سے یہ سوال پوچھا تھا جس کے جواب میں جانسن نے کہا ’حلب کیا ہے؟‘

اس سوال کے جواب میں سوال پر برینیکل نے جانسن نے کہا ’کیا آپ مذاق کر رہے ہیں؟‘ اور پھر برینیکل میں شام اور شام کے شہر حلب میں جاری خانہ جنگی اور انسانی بحران کے حوالے سے ان کو آگاہ کیا۔

برینیکل کی جانب سے آگاہ کیے جانے کے بعد جانسن نے کہا ’او ہاں اچھا۔ جہاں تک شام کا تعلق ہے تو میرے خیال میں حالات بہت خراب ہیں۔ میرے خیال میں اس بحران سے نمٹنے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے کہ روس کے ساتھ مل کر سفارتی کوششیں کی جائیں۔‘

جانسن نے بعد میں ایک بیان میں کہا ’کیا مجھے شام کے ہر شہر کا نام یاد ہے؟ نہیں۔ کیا مجھے حلب کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے تھا؟ ہاں۔ کیا مجھے اس کے اہمیت معلوم ہے؟ ہاں۔‘

اسی بارے میں