امریکہ شام میں ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہا: روس

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شام میں وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے

روس نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ شام میں امن کے قیام کے لیے کیے گئے معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہا ہے۔

روس کی وزارتِ دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ واشنگٹن شام میں باغی گروپ کو قابو میں رکھنے میں اپنی ہچکچاہٹ پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔

گذشتہ سوموار کو طے پانے والے معاہدے کے بعد سے شام میں بڑی حد تک امن رہا ہے لیکن شامی افواج اور باغیوں کی طرف سے امن معاہدے کی خلاف ورزیوں کی شکایات بڑھتی جا رہی ہیں۔

دریں اثنا اقوام متحدہ نے خبر دار کیا ہے کہ شام میں انسانی امداد کی ترسیل میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے سٹافن ڈی مستورا نے شامی حکومت پر ذمہ داری عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکام کی طرف سے محصور علاقوں تک امداد کی ترسیل کے اجازت نامے فراہم نہیں کیے ہیں۔

امداد سے بھرے اقوام متحدہ کے 20 ٹرک باغیوں کے زیر قبضہ شام کے مشرقی علاقے حلب جانے کے لیے ترکی کے بارڈر پر اجازت ملنے کے منتظر ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جہادی گروپ معاہدے میں شامل نہیں ہیں

معاہدے کے تحت فریقین حلب جانے والی بڑی شاہراہ سے بھاری ہتھیار اور فوج کو کم از کم پانچ سو میٹر پیچھے لے جانے کے پابندی ہیں۔

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ڈی مستورا نے کہا کہ کستیلو سڑک جو شمالی حلب کے گرد بڑی شاہراہ ہے اس سے فوج کا پیچھے ہٹنا بھی بڑا مسئلہ ہے اور پیچیدگیوں کا باعث بن رہا ہے۔ اس شاہراہ پر ابتدائی طور پر دو چوکیاں قائم کی جانی تھیں جس پر شامی ہلال احمر کے اہلکاروں کو روس کے فوج کی سیکورٹی میں تعینات کیا جانا تھا۔

برطانیہ میں قائم سیرین آبزرویٹری گروپ کے مطابق فریقین اس سڑک سے پیچھے ہٹنے پر تیار ہیں لیکن وہ اس میں پہل کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

حلب میں ایک باغی گروہ سے تعلق رکھنے والے زکریا ملاہفجی نے روئٹرز نیوز ایجنسی کو بتایا کہ فوج کو جمعرات کو پیچھے ہٹنا تھا اور جمعہ کو امداد آنے کی امید ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ یہ ہونا تھا لیکن اب کوئی امید نہیں ہے۔ انھوں نے شدید خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کسی موقع سے فائدہ اٹھانے سے نہیں چوکتی۔

روس اور امریکہ نے باغیوں اور حکومت کے درمیان یہ معاہدہ کرایا تھا لیکن جہادی گروہ اس معاہدے کا حصہ نہیں تھے۔

اگر یہ جنگ بندی جاری رہتی ہے تو اس پر ہر 48 گھنٹے بعد نظر ثانی کی جانی تھی۔

اس کا مقصد حلب اور دوسرے محصور علاقوں تک امداد کی مستقل ترسیل کو یقنی بنانا تھا۔

اگر یہ معاہدہ ایک ہفتے تک قائم رہا تو روس اور امریکہ شدت پسند گروہوں پر مشترکہ طور پر بمباری بند کر دیں گے جن میں اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کہلانے والا گروپ اور جبہاد فتح الاشام نامی گروہ جسے ماضی میں نصرا فرنٹ بھی کہا جاتا تھا شامل ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں