امریکہ اطالوی خاندان کو معاوضہ دینے پر راضی

Image caption جیوانی لو پورٹو کو سنہ 2012 میں پاکستان کے صوبے پنجاب کے شہر ملتان سے اغوا کیا گیا تھا

امریکی حکومت پاکستان میں کیے جانے والے ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے اطالوی امدادی کارکن کے خاندان کو 12 لاکھ ڈالر معاوضہ دے گی۔

37 سالہ جیوانی لو پورٹو القاعدہ کی قید میں تھے جب سنہ 2015 میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ان کی ہلاکت ہوئی تھی۔ اس حملے میں ایک امریکی امدادی کارکن کی ہلاکت بھی ہوئی تھی۔

*عمران خان کا ڈرون حملوں کے متاثرین کے لیے معاوضے کا مطالبہ

وائٹ ہاؤس کی جانب سے اطالوی کارکن کے خاندان کو معاوضہ ادا کرنے کے فیصلے کے حوالے اس ابھی کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ برس امریکی صدر اوباما نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ دونوں امدادی کارکنوں کی ہلاکت امریکی ڈرون حملے کے نتیجے میں ہوئی تھی اور انھوں نے اس پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔

وائٹ ہاؤس نے اس حوالے سے کہا تھا کہ یہ حملہ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں موجود القاعدہ کے ایک ٹھکانے پر کیا گیا تھا اور امریکہ کو اس بات کی خبر نہیں تھی کہ وہاں سویلین بھی موجود ہیں۔

اطالوی اخبار لا ریپبلیکا اور برطانوی اخبار اخبار گارڈین نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی حکومت اور جیوانی لو پورٹو کے خاندان کے درمیان ہونے والے معاہدے میں اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ ان کی ہلاکت پاکستان کی سرزمین پر ہوئی تھی۔

جیوانی لو پورٹو کو سنہ 2012 میں پاکستان کے صوبے پنجاب کے شہر ملتان سے اغوا کیا گیا تھا جہاں وہ ایک امدادی ادارے کے ساتھ کام کر رہے تھے۔

خیال رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان اس بات کا متعدد بار مطالبہ کر چکے ہیں کہ ڈرون حملوں ہلاک ہونے والے پاکستانی شہریوں کو امریکہ معاوضہ ادا کرے۔

ڈرون حملوں پر ایک غیر سرکاری تنظیم کی رپورٹ کے مطابق سنہ 2004 میں امریکہ نے پاکستان میں ڈرون حملے شروع کیے اور اب تک کیے جانے والے حملوں میں مجموعی طور پر چار ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں 200 بچے بھی شامل ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں