’روس باغی گروپوں پر دوبارہ بمباری کر سکتا ہے‘

روس نے خبر دار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے اپنے حمایت یافتہ باغی گروپوں کو انتہا پسندوں سے الگ نہ کیا تو وہ ان کے خلاف دوبارہ بمباری شروع کر سکتا ہے۔

شام میں جنگ بندی سے متعلق ہونے والے سمجھوتے کے مطابق اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کہنے والی تنظیم اور ماضی میں سرکاری طور پر القاعدہ سے منسلک رہنے والے گروپ کو ہی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

درایں اثنا اقوامِ متحدہ ابھی تک محصور شہر حلب میں امدادی سامان پہنچانے کا انتظار کر رہا ہے۔

ترکی کی سرحد پر 20 ٹرک شام میں داخل ہونے کے لیے محفوظ راستے کا انتظار کر رہے ہیں جبکہ حلب میں پیر کے روز سے جنگ بندی پر عمل درآمد ہو رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ اسے ابھی تک باغیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں ٹرک بھیجنے کی اجازت نہیں ملی جہاں کم از کم ڈھائی لاکھ افراد خوراک اور ادویات کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔

روس نے کہا ہے کہ شامی فوجوں نے حلب کے مضافات میں ٹرکوں کے گزرنے والے راستے کاستیلو روڈ سے ہٹنا شروع کر دیا ہے لیکن اس بات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

برطانیہ میں قائم ایک مانیٹرنگ گروپ نے کہا ہے کہ روسی فوجی سڑک کے ساتھ ساتھ شامی دستوں کی جگہ لے رہے ہیں۔

باغی گروپوں نے کہا ہے کہ وہ اس وقت تک کاستیلو روڈ سے پیچھے نہیں ہٹیں گے جب تک حکومتی دستے ایسا نہیں کرتے۔

روس نے نائب وزیر خارجہ میخائیل بوگدانوف نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کے ملک کو یقین ہے کہ شام جنگ بندی کے سمجھوتے کی پاسداری کرے گا تاہم انہیں اپوزیشن کے بارے میں ’شکوک و شبہات‘ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انھوں نے کہا کہ امریکہ کو ’اعتدال پسند‘ باغی گروپوں کو جبۃ الفتح الشام سے دور کرنے کیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جبۃ الفتح الشام، جسے ماضی میں النصرہ کے نام سے جانا جاتا تھا، سب سے مضبوط جہادی گروپ ہے اور یہ جنگ بندی کے منصوبے میں شامل نہیں ہے۔

اگر سات دن تک جنگ بندی برقرار رہی تو امریکہ اور روس مشترکہ طور پر جبۃ الفتح الشام اور دولت الاسلامیہ پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

تاہم دیگر باغی گروپوں نے جن میں سے کئی مغرب کے حمایت یافتہ ہیں خود کو جبۃ الفتح الشام الگ کرنے کے کوئی اشارے نہیں دیئے۔

مسٹر بوگدانوف نے کہا کہ امریکہ وعدے کرتا آ رہا ہے کہ وہ اعتدال گروپوں کو جبہ النصرہ سے الگ کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔

’اس وقت سے امریکہ ہمیں کہتا آ رہا ہے کہ انتظار کریں اور ہم انتظار کر رہے ہیں لیکن اس کی بھی حدود ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ جنگ بندی کا موجودہ سمجھوتہ واحد حل ہے اور ’ہمارے پاس کو پلان بی نہیں‘۔