نیویارک حملے میں ’پریشر ککر بم استعمال ہوئے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جس کسی نے بھی یہ بم رکھے ہیں، ہم انھیں ڈھونڈ لیں گے: گورنر نیویارک

امریکہ میں حکام کا کہنا ہے کہ نیویارک میں سنیچر کی رات ہونے والے دھماکے اور قریب سے ہی ملنے والے ایک اور آلے دونوں ہی میں لوہے کے ٹکڑوں بھرے پریشر ککر کا استعمال کیا گیا۔

دوسری جانب وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ایف بی آئی نے اس حملے میں ملوث ہونے کے شک میں پانچ افراد کو حراست میں لینے کی اطلاعات کی تردید کی ہے۔

دھماکے میں زخمی ہونے والے تمام 29 افراد کو ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

٭ نیویارک میں ایک ہزار اضافی سکیورٹی اہلکار تعینات

امریکہ کے شہر نیویارک میں سنیچر کی رات ہونے والے دھماکے اور قریب سے ہی ملنے والے ایک اور آلے دونوں ہی میں لوہے کے ٹکڑوں بھرے پریشر ککر کا استعمال کیا گیا۔

حکام کے مطابق یہ بم سنہ 2013 میں بوسٹن میراتھن کے موقعے پر کیے دھماکوں میں استعمال کیے گئے بموں سے مشابہت رکھتے ہیں۔

شہر میں قانون نافذ کرنے والے اعلی حکام کے کا کہنا ہے کہ دونوں دھماکہ خیز آلات میں فلپ فونز اور کرسمس لائٹس کا استمعال کیا گیا تاکہ دھماکہ کیا جا سکے۔

سنیچر کی رات نیویارک سٹی کے علاقے چیلسی میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں کم سے کم 29 افراد زخمی ہوئے تھے۔

چیلسی مینہیٹن کے خوش پوش علاقوں میں شامل ہوتا ہے جہاں بارز اور ریستوران ہفتے کے آخر میں کافی مصروف ہوتے ہیں اور یہاں ہجوم رہتا ہے۔

منگل کو صدر اوباما اور کئی عالمی رہنما نیویارک میں ہی اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے والے ہیں۔

امریکی ریاست نیویارک کے گورنر اینڈیو کومو کا کہنا ہے کہ نیویارک شہر میں ہونے والا دھماکہ دہشت گردی کی کارروائی تھا تاہم تاحال اس میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے۔

گورنر کومو کا کہنا تھا کہ دھماکے سے واضح نقصان ہوا ہے اور ’ہم خوش قسمت ہیں کہ کوئی جان ضائع نہیں ہوئی۔‘

اینڈریو کومو کے مطابق شہر کے اہم مقامات پر ایک ہزار اضافی سکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گورنر کومو کا کہنا تھا کہ دھماکے سے واضح نقصان ہوا ہے اور ’ہم خوش قسمت ہیں کہ کوئی جان ضائع نہیں ہوئی‘

ان کا کہنا تھا کہ ’جس کسی نے بھی یہ بم رکھے ہیں، ہم انھیں ڈھونڈ لیں گے اور انھیں انصاف کے کٹہرے تک پہنچایا جائے گا۔‘

اس سے قبل نیویارک کے میئر نے اسے ’دانستہ کارروائی‘ سے تعبیر کیا تھا۔

نیویارک کے میئر بل دا بلیسیو کا کہنا تھا کہ ’نیو یارک کے علاقے چیلسی میں ہونے والا دھماکہ دانستہ کارروائی تھا۔‘ تاہم انھوں نے کہا ہے کہ اس کا یا پھر اس سے قبل پڑوسی نیو جرسی میں ہونے والے دھماکے کا کسی دہشت گرد گروپ سے کوئی تعلق نہیں۔‘

خیال رہے کہ نیوجرسی میں ہونے والا دھماکہ ایک فوجی خیر سگالی کے سلسلے میں منعقد کی گئی ایک ریس کے متعین راستے پر ہوا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں