احمد خان رحمی نیویارک میں بم حملوں کے ملزم نامزد

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption احمد خان رحمی کو نیو جرسی میں لنڈن شہر میں ایک پولیس اہلکار پر فائرنگ کے بعد حراست میں لیا گیا تھا

امریکی حکام نے افغان نژاد امریکی شہری احمد خان رحمی کو نیو یارک اور نیو جرسی میں ہونے والے بم دھماکوں کا ملزم نامزد کیا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ سنیچر کو نیویارک اور نیوجرسی میں تین دھماکے ہوئے تھے۔ نیو یارک کے علاقے چیلسی میں ہونے والے دھماکے میں 29 افراد زخمی ہوئے تھے۔

٭ نیو یارک، مشتبہ ملزم کو طبی امداد پر ٹرمپ کی تنقید

٭ نیویارک بم دھماکے، ’مشتبہ شخص پولیس کی حراست میں‘

٭ نیویارک میں ایک ہزار اضافی سکیورٹی اہلکار تعینات

چیلسی کا شمار مین ہٹن کے امیر ترین علاقوں میں ہوتا ہے۔

احمد خان رحمی کو نیو جرسی میں لنڈن شہر میں ایک پولیس اہلکار پر فائرنگ کے بعد حراست میں لیا گیا تھا اور انھیں پہلے ہی قتل کی کوششوں کا ملزم ٹھہرایا جا چکا ہے۔

افغان نژاد امریکی شہری پر عائد کیے جانے والے نئے وفاقی الزامات میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا استعمال، بم بنانے، جائیداد کو تباہ کرنے اور تباہ کن ڈیوائس استمعال کرنے کے الزامات شامل ہیں۔

مین ہٹن فیڈرل کورٹ میں پیش کی گئی چارج شیٹ سے رحمی کے مقاصد کے نئے پہلو سامنے آئے ہیں۔

چارج شیٹ کے مطابق رحمی کی خواہش تھی کہ انھیں ایک شہید کی موت آئے۔

Image caption چارج شیٹ کے مطابق رحمی گذشتہ کئی مہینوں سے ان حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے

تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ 28 سالہ رحمی نے چیلسی میں دو بم نصب کیے تھے تاہم ان میں سے ایک پھٹ نہیں سکا تھا جب کہ پہلے بم پھٹنے سے کوئی شخص زخمی نہیں ہوا تھا۔

مین ہٹن فیڈرل کورٹ میں پیش کی گئی چارج شیٹ کے مطابق رحمی گذشتہ کئی مہینوں سے ان حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

اس سے قبل امریکہ کی رپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے افسوس ظاہر کیا تھا کہ نیویارک بم دھماکے کے مشتبہ ملزم احمد خان رحمی کی گرفتاری کے بعد انھیں طبی اور قانونی امداد فراہم کی جائے گي۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا ’اب ہم انھیں ہسپتال میں داخل کروا دیں گے۔ دنیا کے کچھ بہترین ڈاکٹر ان کا خیال رکھیں گے۔

’کتنی بری صورتِ حال ہے کہ انھیں ایک جدید ہسپتال کا کمرہ فراہم کیا جائے گا اور شاید انھیں روم سروس بھی مہیا ہو۔‘

اسی بارے میں