100 سال سے جلتی آگ کی تصاویر

انڈیا سے تعلق رکھنے والے ایک فوٹو گرافر کو ’گیٹی امیجز انسٹاگرام‘ کی جانب سے دوسرا سالانہ گرانٹ دیا گیا ہے۔

یہ گرانٹ ان فوٹوگرافرز کو سراہتا ہے جو ان کمیونیٹیز کی زندگی کو کیمرے پر محفوظ کرتے ہیں جنھیں کم نمائندگی ملتی ہے۔

انڈیا سے رانی سین اور دو دیگر جیتنے والے فوٹوگرافرز کو جن میں یوروگوئے سے کرسٹئین روڈریگیز اور ایتھوپیا سے گرما برٹا شامل ہیں، 10 ہزار ڈالر کی گرانٹ ادا کی گئی ہے۔

سین کو انڈیا کی مشرقی ریاست جھرکھنڈ کے کوئلے کے لیے مشہور قصبے جھاریا میں تصاویر کھینچنے پر انعام ملا جہاں ایک صدی سے آگ زیر زین جل رہی ہے۔

رانی کہتے ہیں ’جھاریہ میں ایک صدی سے زیادہ سے آگ زیر زمین جل رہی ہے۔ وہاں رہنے والے لوگ اپنی پیدائیش سے یہ دیکھتے آئے ہیں تو یہ ان کی زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔‘

رانی مزید کہتے ہیں ’ایک زمانے میں یہاں پر کئی دیہات آباد تھے لیکن اب ان کا کوئی نام و نشان نہیں ہے۔ وہ بالکل غائب ہو چکے ہیں۔ کچھ لوگ یہ علاقے چھوڑ کر بہتر مواقعوں کی تلاش میں کہیں اور منتقل ہو رہے ہیں۔

رانی کہتے ہیں ’لوگ زیادہ تر کوئلے کی اس بہت بڑی صنعت پر انحصار کرتے ہیں۔ ان کے پاس کوئی دوسری صلاحیتیں نہیں ہوتی ہیں۔‘

وہ مزید کہتے ہیں ’میں زیادہ لوگوں تک اپنے خدشات پہنچانا چاہتا ہوں کیونکہ جھاریا کی کہانی صرف انڈیا تک ہی محدود نہیں ہے۔‘

رانی کہتے ہیں کہ ’یہ ایک اتفاق ہے کہ یہاں پر جھاریا ہے۔ یہ ایک اقتصادی، ماحولیاتی اور بہت گمبھیر سیاسی مسئلہ ہے جو دنیا بھر میں نمایاں ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ ان تصاویر سے بات چیت کا سلسلہ شروع ہو سکے گا اور لوگوں کو ہمارے ممکنہ مستقبل کی ایک چھوٹی سی جھلک بھی دکھائی دے گی۔‘

اسی بارے میں