’خفیہ آپریشن کا بادشاہ‘ خود کٹہرے میں

تصویر کے کاپی رائٹ

پاکستانی کرکٹروں کے خلاف سپاٹ فکسنگ کے سکینڈل کو سامنے لانے والے پاکستانی نژاد برطانوی صحافی مظہر محمود خود لندن کی ایک عدالت میں ایک مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں۔

مختلف برطانوی اخباروں سے منسلک رہنے والے تحقیقاتی صحافی مظہر محمود پر الزام ہے کہ انھوں نے 2014 میں پاپ سنگر ٹُلیسا کونٹوسٹاولوس کے خلاف ایک مقدمے میں شہادتی بیان میں رد و بدل کی سازش کی تھی۔

مظہر محمود اور ان کے ڈرائیور ایلن سمتھ نے انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی سازش کرنے کے الزام سے انکار کیا ہے۔

ٹُلیسا کونٹوسٹاولوس کے خلاف کوکین سپلائی کرنے کا الزام تھا لیکن ان کے خلاف چلنے والا مقدمہ 2014 میں ختم کر دیا گیا۔

مظہر محمود کے خلاف موجودہ مقدمے میں استغاثہ کا کہنا ہے کہ ٹلیسا والے مقدمے میں ان کی ’ذاتی دلچسپی‘ تھی۔

اولڈ بیلی میں شروع ہونے والے مقدمے میں عدالت کو بتایا گیا کہ مس کونٹوسٹاولوس کو اپنے آپ کو ’خفیہ آپریشن کا بادشاہ‘ کہنے والے صحافی نے نشانہ بنایا۔ انھوں نے اپنے آپ کو ایک بااثر فلمساز دکھایا جو پاپ سنگر کو ایک بڑی ہالی وڈ میں ایک مرکزی رول دینا چاہتا ہے۔

مس کونٹوسٹاولوس پر الزام تھا کہ انھوں نے مظہر محمود کے لیے 800 پاؤنڈ کے عوض آدھا اونس کوکین کا بندوبست کیا تھا۔

اخبار میں خبر چھاپنے کے بعد مظہر محمود نے متعلقہ مواد پولیس کو فراہم کیا تھا جس کی بنیاد پر ٹلیسا کو اے کلاس ڈرگ سپلائی کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔

مظہر محمود اور ایلن سمتھ پر الزام ہے کہ انھوں ایلن سمتھ کے پولیس کو دیئے گئے ایک بیان میں اس بنیاد پر تبدیلی کی کوشش کی تھی کیونکہ اس سے ٹلیسا کو فائدہ پہنچ رہا تھا۔

مسٹر سمتھ نے پولیس کو بتایا تھا کہ کو کین کے بارے میں ٹلیسا کا رویہ بظاہر منفی تھا لیکن ایک دن بعد انھوں نے پولیس کو بتایا کہ وہ اپنے بیان کا وہ حصہ واپس لینا چاہتے ہیں۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ اگلے 24 گھنٹے کے اندر مسٹر سمتھ نے پولیس کو دیئے گئے اپنے انٹرویو کی کاپی مظہر محمود کو بھیجی تھی اور ان کے ساتھ ان کی ٹیکسٹ میسجوں اور فون پر کئی مرتبہ رابطہ ہوا تھا۔

جون 2014 کو مقدمے کی سماعت کے دوران مظہر محمود نے حلفیہ طور پر کہا تھا کہ ان کی مسٹر سمتھ سے ٹلیسا سے متعلق کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ لیکن بعد میں جیوری کے سامنے بیان دیتے ہوئے انھوں نے تسلیم کیا کہ انھوں نے مسٹر سمتھ کے بیان کی نقل دیکھی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اسی بنیاد پر ٹلیسا کے خلاف مقدمے کو ختم کر دیا گیا تھا۔

بدھ کے روز مقدمے کی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے استغاثہ کی وکیل سارہ فورشا نے عدالت کو بتایا کہ ہو سکتا ہے مظہر محمود خفیہ آپریشن کے ماہر ہوں لیکن اس کیس میں خود ان کا پول اپنے ملازم سمیت کھل گیا ہے۔

یاد رہے کہ 2011 مظہر محمود ہی پاکستان کرکٹروں محمد عامر، محمد آصف اور سلمان بٹ کے خلاف سپاٹ فکسنگ کا کیس سامنے لائے تھے جس کی بنیاد پر ان کے خلاف نہ صرف پابندی لگی تھی بلکہ انہیں جیل بھی جانا پڑا تھا۔

بتایا جاتا ہے کہ اگرچہ مظہر محمود خود برطانیہ کے شہر برمنگھم میں پیدا ہوئے تھے لیکن ان کے خاندان کا تعلق پاکستان کے شہر لاہور سے ہے۔

ان کے والد سلطان محمود ایک طویل عرصے تک لاہور سے شائع ہونے والے اردو اخبار نوائے وقت کے برطانیہ میں بیورو چیف رہے ہیں۔

متعلقہ عنوانات