سعودی عرب کی نظریاتی پالیسیوں پر ایرانی صدر کی تنبیہ

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption خاص ممالک کو اپنے ہمسایوں پر بمباری کو روکنا چاہیے اور دہشت گرد گروہوں کی معاونت کو ترک کر دینا چاہیے

ایران کے صدر حسن روحانی نے خطے میں موجود اپنے سب سے بڑے حریف سعودی عرب سے کہا ہے کہ وہ نظریاتی سطح پر نفرت پھیلانا اور اپنے ہمسایوں کو روندنا بند کرے۔

٭ ’سعودی عرب کے خلاف تادیبی کارروائی ہونی چاہیے‘

٭ ایران نے سعودی عرب کی کشتیاں پکڑ لیں

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق نیویارک میں جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ’خاص ممالک کو اپنے ہمسایوں پر بمباری کو روکنا چاہیے اور دہشت گرد گروہوں کی معاونت کو ترک کر دینا چاہیے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر سعودی عرب خطے میں ترقی اور سکیورٹی کے وژن کے حوالے سے سنجیدہ ہے تو اسے تقسیم کی پالیسیوں، نفرت پر مبنی نظریات اور ہمسایوں کے حقوق کو روندنے سے باز رہنا ہوگا۔

گذشتہ روز جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں سعودی شہزادے محمد بن نائف نے ایران کو تجویز دی تھی کہ اسے خطے میں اچھے ہمسائے کے طور پر رہنا چاہیے اور دیگر ممالک کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان یمن میں جنگ کے آغاز اور حج سے متعلق پالیسیوں میں اختلافات کے باعث کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

یمنی حکومت کے خلاف لڑنے والے شیعہ حوثی باغیوں کے بارے میں سعودی عرب کا دعویٰ ہے کہ انھیں ایران کی مدد حاصل ہے تاہم ایران اس سے انکاری ہے۔

رواں برس حج پالیسی پر اتفاقِ رائے نہ ہونے کی وجہ سے ایران کے کسی بھی شہری نے حج نہیں کیا تھا۔

جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب میں صدر روحانی نے جہاں چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ معاہدے کے بعد آٹھ ماہ کے عرصے میں ایران کی معاشی ترقی پر بات کی وہیں خود پر عائد پابندیوں کو ہٹائے جانے میں تاخیر پر تنقید بھی کی۔ انھوں نے بطور خاص امریکہ کے بینکوں سے متعلق امور میں تاخیر پر ناراصگی کا اظہار کیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں