امیروں کو طلاق کتنی مہنگی پڑتی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ PA

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہالی وڈ کے مشہور اداکار بریڈ پٹ اور اداکارہ اینجلینا جولی کے لیے طلاق لینے کا فیصلہ کافی تکلیف دے اور مہنگا ثابت ہو رہا ہے۔

اگرچہ طلاق کی تکلیف امیر اور غریب دونوں کے لیے ایک جیسی ہوتی ہے لیکن امیروں کے لیے یہ بہت ہی مہنگی ثابت ہوتی ہے۔

طلاق کے اخراجات غیر معمولی ہوتے ہیں جس میں ایک اچھے وکیل کی فیس 600 پاؤنڈ فی گھنٹہ ہوتی ہے اور کیس کے اختتام پر بھاری رقم ادا کی جاتی ہے۔

برطانیہ میں کاروباری شخصیت سر کرس ہون کے پاس سب سے مہنگی طلاق کا ریکارڈ ہے۔

انھوں نے 2014 میں اپنی سابق اہلیہ کو 33 کروڑ 70 لاکھ پاؤنڈ کا معاوضہ ادا کیا تھا۔

گذشتہ برس لیئم گلیگر اور نیکول ایپلٹن نے علیحدگی کے کیس پر 8 لاکھ پاؤنڈ فیسوں کی مد میں ادا کیے۔

اگرچہ اینجلینا جولی نے لاس اینجلس کی اعلیٰ عدالت میں پیر کو بریڈ پٹ سے شادی ختم کرنے کی درخواست دی لیکن اس وقت برطانوی دارالحکومت لندن امیر کبیر لوگوں کا طلاق لینے کا مرکز بن چکا ہے۔

لندن میں لا فرم ویدرز سے منسلک خاندانی قانون کے ماہر مائیکل گوریٹ کے لندن میں طلاق لینے کے رجحان کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ’پہلی چیز، ہمارے پاس نظام ہے جس میں شادی کے دوران بنائی گئی ہر چیز کو تقسیم کرنے کا نظام موجود ہے۔ اس میں تمام اثاثے شامل ہوتے ہیں۔ دوسرا پہلو اس میں یہ ہے کہ عدالتوں کے صوابدید اختیارات وسیع ہیں جس کی وجہ سے اس طلاق میں اس سے زیادہ سخاوت برتی جا سکتی ہے جو مالی طور پر کمزور ہو۔‘

اس کے موازنے میں طلاق سے متعلق یورپی قانون میں اثاثوں کی تقسیم جوڑوں کی مستقبل کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے کی جاتی ہے۔

موناکو میں طلاق

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock

طلاق کی صورت میں وہ دولت تقیسم ہوتی ہے جو شادی کے دوران جوڑے نے بنائی ہوتی ہے۔ اگر شادی کے وقت آپ کے پاس دولت نہیں تھی اور آپ کی شادی دولت مند سے ہوتی ہے تو اس امکان ہوتا ہے کہ آپ کو طلاق کے وقت کچھ زیادہ نہ ملے۔

موناکو میں دولت کی دیکھ بھال کے حوالے سے کام کرنے والی ویب سائٹ کے مطابق طلاق حاصل کرنا بہت ہی پیچدار ثابت ہو سکتا ہے جس میں بہت واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ اگر دولت مند کے غریب سے شادی اور بعد میں طلاق لینے کی صورت میں کیا ہو گا۔

’اگر آپ دولت مند شخص ہیں اور آپ کے پاس دس کروڑ یورو ہیں اور آپ اپنی بیوی کے ساتھ رہتے ہیں اور آپ کا ماہانہ خرچہ 5 ہزار یورو تک ہے اور مقامی قوانین کے تحت آپ کو طلاق کی صورت میں اپنی سابق بیوی کو تین لاکھ یورو ادا کرنا ہوں گے جو اس کے پانچ برس کے اخراجات کے برابر ہوں گے اور اس کا مطلب ہے کہ آپ کے پاس 99.7 فیصد دولت رہے گی۔‘

اسی وجہ سے ماناکو میں بہت سارے ارب پتیوں کو ان کے شریک زندگی چالاکی سے اس بات پر قائل کرتے ہیں کہ وہ لندن کا انتخاب کریں۔

برطانیہ کی سکونت اہم

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کرسٹینا نے دو بار طلاق لی اور لندن میں طلاق کے عوض 5 کروڑ 30 لاکھ پاؤنڈ ملے

انگلینڈ یا ویلز میں ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ یہاں آپ کو طلاق حاصل کرنے کا حق حاصل ہے۔ آپ کو اس کے لیے شہریت حاصل کرنے کی ضرورت نہیں لیکن آپ کے پاس سکونت یا مستقل رہائش کے سٹیٹس کی ضرورت درکار ہو گی۔

مثال کے طور پر پاؤلین چی اور ان کے شوہر کہو کے پینگ کا کیس۔ جس میں دونوں نے صرف یہ طے کرنے کے لیے 50 سے 60 لاکھ پاؤنڈ قانونی فیسوں کی مد میں خرچ کر ڈالے کہ طلاق انگلینڈ میں لینی ہے کہ ملائیشیا میں۔ پاؤلین کی انگلینڈ کے علاقے ہارٹفورڈشائر میں تین کروڑ مالیت کی جائیداد موجود تھی۔

اس میں پاؤلین کے حق میں فیصلہ گیا جس میں ہائی کورٹ کے جج نے فیصلہ دیا کہ طلاق کا کیس انگلینڈ میں دائر کیا جائے۔

یورپی یونین کے قوانین کے تحت اتحاد کے 27 ممالک میں جہاں بھی طلاق کا کیس فائل کیا جائے گا وہاں کی اس کی سماعت اور فیصلہ ہو گا۔

امیر جوڑوں کا لندن میں طلاق لینے میں کشش یہ بھی ہے کہ اگر آپ کی کسی دوسرے ملک میں طلاق ہو چکی ہے تو اس صورت میں بھی لندن میں طلاق کے مالی معاملات کا کیس کر سکتے ہیں۔

لا فرم میسکون ڈی ریئا میں خاندانی قوانین کی وکیل باربرا ریویس کے مطابق جنگ کے بعد ابتدا میں یہ قانونی شق اس وجہ سے شامل کی گئی تھی تاکہ دوکتِ مشترکہ کے ممالک سے آنے والے تارکین وطن کو انگلینڈ میں تحفظ فراہم کیا جا سکے، خاص کر وہ جن کے ملک میں طلاق کی صورت میں مالی معاملات کو نہیں دیکھا جاتا تھا۔

انھوں نے کہا حالیہ عرصے میں اس شق کی وجہ سے لندن کی طلاق حاصل کرنے کے جنکشن کی طور پر شہریت ہوئی ہے جس میں دوسرے ممالک کے ارب پتی افراد کے جیون ساتھی لندن یا اس سے متصل کاؤنٹیزکو اپنا ٹھکانہ بناتے ہیں۔

اس کی ایک حالیہ مثال سابقہ ماڈل کرسٹینا کی ہے جنھوں نے 2014 میں اپنے سعودی شوہر اور کاروباری شخیصت شیخ ولید جوفالی سے پانچ کروڑ 30 لاکھ پاؤنڈ کے عوض طلاق لی تھی۔

تاہم کچھ ارب پتی افراد طلاق کی صورت میں بھاری معاوضے کی ادائیگی سے بچنے کے لیے اپنی دولت کو چھپانے کے طریقے بھی تلاش کرتے ہیں

حال ہی میں فرم موساک فونسیکا سے افشا ہونے والی دستاویزات سے معلوم ہوا کہ اس طرح ہالینڈ میں ایک ڈچ شخص نے اپنی ڈچ سے طلاق حاصل کرنے سے پہلے آف شور کمپنی خریدی اور اس کے ذریعے دولت کو باہر منتقل کیا۔

اسی بارے میں