اوپیک تیل کی قیمتوں میں اضافے کی ایک اور کوشش کرے گی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تیل کی قیمتیں اس موقع پر27 ڈالر فی بیرل تک گر گئیں تھیں

تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک رواں ہفتے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بہتری لانے کے اقدامات پر اتفاق رائے کی ایک اور کوشش کرے گی۔

الجزائر‎‎ کے وزیر توانائی نورالدین بوتیفا نے کہا ہے کہ ملک میں توانائی پر ہونے والی کانفرنس کے دوران اوپیک کے رکن ممالک غیر رسمی مذاکرات کریں گے۔

٭ چار ممالک کا تیل کی پیداوار نہ بڑھانے پر اتفاق

انھوں نے کہا کہ ان مذاکرات میں تیل کی پیدوار میں کمی یا اسے موجودہ سطح پر منجمد کرنے پر غور کیا جائے گا۔

نورالدین بوتیفا نے کہا ہے کہ ان مذاکرات میں ہم خالی ہاتھ واپس نہیں آئیں گے۔

2014 کے وسط تک عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے زیادہ تھیں تاہم بعد میں تیزی سے گراوٹ آئی اور ایک موقع پر قیمتیں 30 ڈالر فی بیرل سے بھی نیچے گر گئیں۔

اوپیک تنظیم کے 14 ارکان دنیا کی تیل کی ضروریات کا ایک تہائی مہیا کرتے ہیں اور یہ ممالک تاحال تیل کی پیدوار میں کمی لانے کے کسی سمجھوتے پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔

نورالدین بوتیفا کے مطابق اوپیک ممالک میں سے سعودی عرب پہلے پیداوار میں کمی کا مخالف تھا تاہم اب وہ بھی پیدوار میں کمی کے فیصلے پر رضامندی ظاہر کر سکتا ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ اگرچہ بدھ کو ہونے والی ملاقات غیر رسمی ہے لیکن اس امکان کو رد بھی نہیں کیا جا سکتا ہے کہ یہ مذاکرات رسمی شکل اختیار کر جائیں۔

’اس میں یا تو ہم ایک سمجھوتے پر پہنچ جائیں گے، جو اچھا ہو گا، اور یا تو ہم سمجھوتے کے نکات پر متفق ہو جائیں گے اور یہ بھی اچھا ہو گا۔ ہر رکن ملک قیمتوں میں استحکام لانے پر رضامند ہے۔ اس میں ایک ایسا طریقہ تلاش کرنا باقی ہے جس پر سب مطمئن ہوں۔ اس میں بہترین حل پیداوار کو منجمد کرنا ہے۔‘

خیال رہے کہ اقتصادی تھنک ٹینک گولڈمین سیکس نے کہا تھا کہ سنہ 2016 کے اختتام پر خام تیل 50 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جائے گا جب کہ سنہ 2017 میں تیل کی قیمت 60 ڈالر فی بیرل تک ہو گی۔

اسی بارے میں