جرمنی: پولیس کی گولی سے پناہ گزین ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption عینی شاہدین کے مطابق بچی کے والد نے مشتبہ شخص پر حملہ کرتے وقت چلایا تھا کہ ’تم زندہ نہیں بچو گے‘

جرمنی کے دارالحکومت برلن میں پناہ گزینوں کے لیے قائم سینٹر میں ایک 29 سالہ پناہ گزین کو ایک جھگڑے کے بعد پولیس نے گولی ماری دی۔

ہلاک کیے جانے سے پہلے اس پناہ گزین کا کہنا تھا کہ اس کی بیٹی کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی تھی۔

پولیس کو ’موبٹ‘ نامی علاقے میں اس وقت بلایا گیا جب اطلاعات کے مطابق اس پناہ گزین کی بیٹی کو ایک قریبی باغ میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

جنسی زیادتی کا شکار بچی کی عمر چھ سال بتائی جا رہی ہے۔

ایک 27 سالہ مشتبہ شخص کو گرفتار کر کے پولیس کی گاڑی میں بٹھایا جا رہا تھا کہ بچی کے والد نے ایک چاقو کے ساتھ اس پر حملہ کیا۔

عینی شاہدین کے مطابق پناہ گزین شخص نے ملزم پر حملہ کرتے وقت کہا تھا کہ ’تم زندہ نہیں بچو گے‘۔

پولیس نے اسی وقت فائرنگ کر دی۔ زخمی پناہ گزین شخص کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ ہلاک ہو گئے۔

متاثرہ بچی کا والد ایک عراقی نژاد شہری تھا۔ برلن کی پولیس اب اس فائرنگ کی تحقیقات کرے گی۔

اب سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا پولیس کو اسلحہ استعمال کرنے کی ضرورت تھی یا نہیں، لیکن برلن کے پولیس یونین کے ترجمان بوڈو فالزگراف کا کہنا تھا کہ ان کے پاس گولی چلانے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں تھا۔

پولیس نے اب لڑکی اور اس کے خاندان کو ایک دوسرے مقام پر منتقل کر دیا ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق مشتبہ شخص کا تعلق پاکستان سے ہے لیکن پولیس نے اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے۔

سنہ 2015 میں 11 لاکھ سے زیادہ پناہ گزین جرمنی میں آئے ہیں۔