’سچائی اگلوانے کے لیے بیلٹ کا استعمال کیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اپنی تازہ ترین رپورٹ 'باؤنڈ بائی بردرہڈ‘ میں انڈیا میں سنہ 2009 سے 2015 کے درمیان حراست کے دوران اموات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

114 صفحات پر مشتمل یہ رپورٹ سوموار کو جاری کی گئی ہے جس میں پولیس کی جانب سے ضابطوں کی پروا نہ کرنا، ٹارچر کی وجہ سے حراست میں اموات کا ہونا اور اس کے لیے ذمہ دار افراد کو سزا نہ ملنے کا ذکر ہے۔

اس میں بعض دلدوز واقعات کا ذکر کیا گيا ہے۔ مارچ سنہ 2013 میں ممبئی پولیس کی حراست میں مرنے والے جلفر شیخ کی موت کے بارے میں پولیس حوالدار نے کہا: 'ملزم کے جسم پر زخم کے بارے میں اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ وہ پکا مجرم تھا اس لیے اس نے کچھ بھی بتانے سے انکار کیا۔ اس سے معلومات حاصل کرنا بہت ضروری تھا اس لیے پولیس نے میری موجودگي میں 'سچائی اگلوانے والے بیلٹ' کا استعمال کیا۔ وہ اتنا کمزور تھا کہ پٹائي کہ بعد جب وہ پانی پینے کے لیے اٹھا تو وہ درد سے چکر کھاکر کھڑکی پر گرا جس سے اس کے جبڑے کا نچلا حصہ ٹوٹ گیا۔'

جبکہ کولکتہ ہائی کورٹ نے مئی میں پریتم کمار سنگھ کے مقدمے میں کہا: 'ایسا لگتا ہے کہ ریاستی تفتیشی ادارے نے نقصان کی تلافی کے طور پر جلد بازی میں یہ جانچ کی ہے تاکہ اعلی پولیس افسران کو خفت سے بچایا جا سکے۔'

عالمی تنظیم کا کہنا ہے کہ دوران حراست کسی بھی قیدی کی موت کے لیے ایک بھی سپاہی کو کوئی سزا نہیں ہوئي ہے اور نہ ہی کسی کو مجرم قرار دیا گیا ہے۔

انڈیا میں پولیس حراست میں ہونے والی موت کو عام طور پر بیماری، فرار ہونے کی کوشش، خودکشی اور حادثات کا نتیجہ قرار دیتی ہے۔

لیکن انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپوں کا الزام ہے کہ ان میں سے زیادہ تر اموات حراست میں تشدد کی وجہ سے ہوتی ہیں۔

تاہم سرکاری افسران ان الزامات کی تردید کر تے ہیں۔

تازہ رپورٹ میں سنہ 2009 سے 2015 کے درميان 'حراست میں ہوئی اموات' کے 17 معاملات کی 'تفصیلی جانچ' پیش کی گئي ہے جس میں سے نصف مسلمان ہیں۔

ویسے بھی انڈیا کی جیلوں میں مسلمانوں کا تناسب ملک میں ان کے آبادی کے تناسب کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ بعض ریاستوں میں یہ دوگنا ہے جبکہ بعض میں تین گنا۔ ٹاٹا انسٹی چیوٹ آف سوشل سائنسز کے پروفیسر وجے راگھون کا کہنا ہے کہ جیل میں مسلم قیدیوں کا تناسب گھٹتا بڑھتا رہتا ہے لیکن مہاراشٹر کی جیل میں یہ 30 سے 35 فی صد کے درمیان ہے۔

شاہدین کے مطابق 35 سالہ جلفر شیخ کوسنہ 2012 میں 28 نومبر کو ممبئی میں غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گيا۔ پولیس نے ضابطے کی پرواہ کیے بغیر انھیں دیر سے مجیسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جبکہ دو دسمبر کو پولیس تحویل میں ہی ان کی موت ہو گئی۔ اہل خانہ نے ممبئی کے دھراوی پولیس سٹیشن میں تشدد کا نشانہ بنائے جانے کا الزام لگایا۔

مغربی بنگال میں مرشدآباد کے 21 سالہ سبزی فروش راجیب ملا کو 15 فروری سنہ 2015 میں گرفتار کیا گيا اور اسی دن اس کی موت ہو گئی۔ ریبا بی بی نے بتایا کہ 'اس روز سادہ لباس میں پانچ لوگ اس کے گھر آئے اور کہا کہ ان کے پاس گرفتاری کا وارنٹ ہے لیکن انھوں نے کوئی وارنٹ نہیں دکھایا۔' وہ رانی نگر پولیس سٹیشن گئیں اور انھوں نے پوچھا کہ کیا کسی نے راجیب کو مارا ہے تو ایک پولیس والے نے کہا: 'زیادہ نہیں ۔۔۔ لیکن آنے والے دنوں میں ہم اسے بہت ماریں گے۔'

ریبا بی بی نے بتایا: 'میں کھڑکی سے دیکھ رہی تھی کہ اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور چار پولیس والے جوتوں اور تھپڑوں سے مار رہے ہیں۔'

اترپردیش کے عبدالعزیز کو پولیس نے 2011 میں آٹھ مئی کو رات ساڑھے دس بجے بغیر وارنٹ دکھائے گرفتار کیا۔ جب ان کے گھر والے پولیس سٹیشن پہنچے تو انھیں بتایا گیا کہ وہ بیمار ہو گئے تھے اور انھیں ہسپتال روانہ کیا گیا اور جب وہ لوگ ہسپتال پہنچے تو انھیں پتہ چلا کہ عبدالعزیز ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ چکے تھے۔

مہاراشٹر کے 22 سالہ الطاف قادر شیخ ہوں یا مغربی بنگال کے قاضی نصیرالدین یا 52 سالہ عبیدالرحمن یا 51پھر سالہ شفیق الاسلام ہوں یا تمل ناڈو کے 23 سالہ کے سید محمد ان سبھی کی اسی قسم کی کہانی ہے جسے انسانی حقوق کی تنظیم نے اپنی رپورٹ میں پیش کیا ہے۔

انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ کسی بھی معاملے میں پولیس کو سزاوار قرار نہیں دیا گيا ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ پولیس قانون کی پاسداری نہیں کرتی اور پھر اپنے ساتھیوں کو بچانے کے لیے سارے جتن کرتی ہے۔

اسی بارے میں