ماضی کی چند بینظیر تصویریں

سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی بیٹی بینظیر کی سیاسی تربیت ان کی کم عمری میں ہی شروع کر دی تھی۔

شملہ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی بیٹی بے نظیر کی سیاسی تربیت کم عمری میں شروع کر دی تھی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی تربیت میں پروان چڑھنے والی بینظیر دو مرتبہ پاکستان کی وزیر اعظم منتخب ہوئیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

بینظیر بھٹو نے حقیقت پسندانہ سیاست کی اور ہمیشہ مذاکرات کے دروازے دوستوں اور دشمنوں کے لیے کھلے رکھے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

پیپلز پارٹی کی سابق چیئرپرسن نے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جزباتی کے بجائے سیاسی پختگی پر مبنی فیصلے کیے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

جب مرتضٰ بھٹو پاکستان واپس آئے تو بہن سے اختلافات کے باعث اپنی سیاسی راہیں الگ کر لیں۔ بنظیر بھٹو کی والدہ نصرت بھٹو نے اس موقع پر اپنے بیٹے کا ساتھ دیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

عالمی سطح پر بینظیر کی بڑی پذیرائی کی جاتی تھی اور ہر ملک میں ان کا بڑی گرمجوشی سے استقبال کیا جاتا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

بینظیر بھٹو نے سیاست میں قدم رکھنے کے بعد پیپلز پارٹی کی از سر نو تشکیل کی اور پارٹی کے مشہور ’انکلز‘ اسی تنظیمِ نو کے دوران پارٹی سے الگ ہوگئے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

پاکستان میں جمہوری نظام کی بحالی اور جمہوری اداروں کے استحکام کے لیے بینظیر بھٹو نے ایک طویل جدوجہد کی جس میں فوجی آمر ضاالحق کے دور میں جیل کی صعوبتیں اٹھانا بھی شامل ہے

،تصویر کا ذریعہRIZWAN TABASSUM

،تصویر کا کیپشن

انھوں نے سندھ کے علاوہ پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخوا سے بھی عام انتخابات میں حصہ لیا اور اسی وجہ سے پیپلز پارٹی نے ایک نعرہ بنا لیا تھا جس کے الفاظ تھے ’چاروں صوبوں کی زنجیر، بینظیر بینظیر‘

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

بینظیر کی اچانک موت نے عوام کو تو سوگوار کر ہی دیا تھا لیکن جیالوں کے دلوں کا درد ناقابلِ بیان تھا۔ جب نواز شریف بینظیر بھٹو کو دیکھنے کے لیے ہسپتال پہنچے تو جیالے ان کے گلے لگ لگ کر روتے رہے۔ آج بھی کئی لوگ بینظیر کی تصویریں دیکھ کے آبددیہ ہو جاتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہDaniel Berehulak

،تصویر کا کیپشن

بینظیر بھٹو کو بھی ان کے والد کے پہلو میں دفن کیا گیا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

پیپلز پارٹی کے کارکن بینظیر کی ہلاکت کے بعد شدید مایوسی کا شکار ہو گئے اور پارٹی آج بھی اس نقصان کو پورا نہیں کر پائی