’تھر کی لڑکیاں وہ سب کریں جو وہ کرنا چاہتی ہیں‘

Image caption سادھوانی تھر کی عورتوں کے لیے بہت کچھ کرنا چاہتی ہیں

صوبہ سندھ کے علاقے تھر کا نام آتے ہی ذہن میں قحط سالی، غربت، پسماندگی سے دو چار لوگوں اور لق و دق صحرا کی تصویر آنکھوں میں گھوم جاتی ہے۔

لیکن سندھ کے لوگ جانتے ہیں کہ تھر میں جب کبھی برکھا برستی ہے تو اس صحرا میں چند دنوں کے لیے ہی سہی لیکن ماحول بہت خوشگوار ہو جاتا ہے۔

اسی صحرا میں مٹی کے ذرا نم ہوتے ہی پھول بھی کھل اٹھتے۔

تھرپارکر کی خواتین ڈمپر ڈرائیورز

سعودی خواتین کونسل میں خواتین کہاں ہیں؟

تھر کے ان ہی ریگزاروں میں ایک کہانی مٹھی کی کرن سادھونی کی ہے۔ سادھونی جنھیں ذرا سے موافق حالات ملے تو انھوں نے اپنے عزم، حوصلے اور محنت کی بدولت اپنے علاقے کی پہلی خاتون انجینئر بن کر تھری خواتین کے لیے ایک نئی مثال قائم کر دی۔

صوبہ سندھ کے صحرائی علاقے تھر کے مرکزی قصبے مٹھی کی 23 سالہ کرن سادھوانی تھر کی پہلی خاتون انجینئر ہیں۔ وہ اُن 25 انجینیئرز میں شامل ہیں جن کا انتخاب اینگرو کول مائننگ کمپنی نے اپنے مختلف پراجیکٹس کی تکمیل کے لیے کیا۔ انجینیئرز کے اِس گروپ میں کرن واحد خاتون انجینئر ہیں جو اپنے ساتھ ہی منتخب ہونے والے 24 لڑکوں کے ساتھ فیلڈ میں کام کر رہی ہیں۔

کرن تھر کی ہندو کمیونٹی لوہانہ سے تعلق رکھتی ہیں اور اپنے گاؤں کی پہلی لڑکی ہیں جنہوں نے یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کی۔ تھرپارکر جیسے پسماندہ علاقے سے ایک نوجوان خاتون انجینئر کا پہلی مرتبہ اُبھر کر سامنے آنا بلا شبہ غیر معمولی بات ہے۔ جہاں خواتین سخت پردے میں کھیتوں میں کام کرتی یا پھر دور دراز علاقوں سے اپنے گھروں میں پانی اکٹھا کرتی نظر آتی ہیں۔

Image caption کرن واحد خاتون انجینئر ہیں جو 24 لڑکوں کے ساتھ فیلڈ میں کام کر رہی ہیں

کرن سادھوانی نے بی بی سی کو بتایا کہ بطور انجینئر نہ صرف وہ فیلڈ میں کام کرتی ہیں بلکہ اس طرح اُن کا اپنی کمیونٹی کی خدمت کا خواب بھی تکمیل کو پہنچا۔

’کہیں اور نوکری کرتی تو صرف پروفیشنل گرومنگ ہی ہوتی لیکن تھر میں رہ کر اپنے علاقے اور اپنی کمیونٹی کے لیے کچھ کر دکھانے کا خواب تھر ہی میں کام کر کے پورا ہو سکتا تھا۔ تھر میں لڑکیاں پابندیوں میں زندگیاں بسر کر رہی ہیں۔ یہ نہ کریں وہ نہ کریں۔ میں کہتی ہوں لڑکیاں وہ سب کریں جو وہ کرنا چاہتی ہیں‘۔

کرن کے مطابق ’تھر میں خواتین سخت پردہ کرتی ہیں، یہ تصور عام ہے کہ لڑکیاں فیلڈ ورک نہیں کر سکتیں، مردوں کے شانہ بشانہ نہیں چل سکتیں۔ ایسے میں، میں نے انجینیئرنگ کی فیلڈ میں اس لیے قدم رکھا کہ باقی خواتین کے لیے مثال قائم کر سکوں کہ تعلیم حاصل کریں کیونکہ لڑکیاں کسی طور لڑکوں سے کم نہیں۔ میں اپنے گاؤں، مٹھی کی واحد لڑکی ہوں جس نے یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کی اور تھر میں بطور انجینیئر اپوئنٹ ہوئی‘۔

Image caption سادھوانی کے والد کو بھی ان کے نوکری کرنے سے شروع میں پریشانی لاحق تھی

کرن کا کہنا ہے کہ اُن کے لیے بطور انجینیئر کام کرنا ایک چیلنج تھا اور وہ سب کو دکھانا چاہتی تھیں کہ لڑکوں کے درمیان اکیلی لڑکی کس طرح اپنے ارد گرد موجود ہر طرح کے مردوں کے درمیان اعتماد سے کام کر رہی ہے۔

’فیلڈ میں میری کوشش ہوتی ہے کہ ہر وہ کام کروں جو لڑکے کر رہے ہیں‘۔

کرن کا کہنا ہے کہ کامیابی کے سفر میں انہیں تنقید بھی برداشت کرنی پڑی لیکن کچھ کرنے کی دھن میں انھوں نے لوگوں کی کڑوی باتیں بھی ہنس کر برداشت کر لیں۔ کام شروع کرنے سے قبل میرے والدین کو لوگوں نے باتیں سنائیں کہ ایسی کیا وجہ ہے کہ اکیلی لڑکی کو نوکری کرنا پڑ رہی ہے‘۔

ان کی تقرری پر اُن کے والد کو بھی چند تحفظات تھے کہ اکیلی لڑکی اتنے مردوں کے درمیان کیسے کام کرے گی۔ سائٹ پر ہر طرح کے مرد ہوں گے۔ لیکن کرن نے اسے ایک چیلنچ سمـجھا اور بتایا۔

’اینگرو کے سینیئر افسران نے میرے والد کے تحفظات دور کر دیے۔ اب میں اِن ہی لوگوں کے درمیان وقار سے رہ رہی ہوں‘۔

اینگرو کول مائننگ کمپنی کے سربراہ شمس الدین شیخ نے بی بی سی کو بتایا کہ سلیکشن کے چھ مختلف مراحل سے گزر کر چار ہزار سے زائد اُمیدواروں میں سے 25 انجییئرز کا انتخاب کیا گیا۔ جو چھ ماہ کی تربیت کے بعد اب فیلڈ میں کام کر رہے ہیں۔ اُن کی کوشش تھی کہ کول پراجیکٹ میں زیادہ سے زیادہ لڑکیاں بھرتی کی جائیں لیکن صرف ایک ہی لڑکی آئی جو بہت سے لڑکوں کے مقابلے میں کہیں بہتر تھی۔

کرن کے مطابق تھر کی لڑکیاں ہنر مند، محنت کش اور تعلیم کے میدان میں لڑکوں سے کم نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ وہاں کے لوگوں کی سوچ میں تبدیلی لائی جائے۔

’میری طرح اُن ہی کے گھر کی بہو بیٹیاں جب رول ماڈل بن کر دنیا کے سامنے آئیں گی تو لوگ مجبور ہو جائیں گے کہ دقیانوسی خیالات کی جگہ روشن اقدار اپنائیں کیونکہ تھر کی عورت واقعی دنیا کی ہر عورت سے آگے ہے‘۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں