قطر میں پاکستانی تارکینِ وطن: خواتین اپنی جگہ بنا رہی ہیں

Image caption سعدیہ خباب اور ماہ نور انصاری (بائیں) دونوں حال ہی میں قطر میں ورجینیا کومن ویلتھ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے والی دونوں خواتین کے بنائے گئے کپڑوں کے ڈیزائنوں نے مقامی اداروں اور برانڈز سے ایوارڈ حاصل کیے۔

مشرقِ وسطٰی اور خلیج فارس کے چند ممالک کے مقابلے میں قطر میں خواتین کو نسبتاٌ زیادہ آزادی حاصل ہے۔ خواتین کو نہ صرف گاڑی چلانے کی اجازت ہے، وہ زندگی کے مختلف شعبہ جات میں ملازمت سے لیکر کاروبار چلاتی بھی دکھائی دیتی ہیں۔

تاہم روایتی طور پر قطر بھی قدرے قدامت پسند ملک ہے۔ یہاں افرادی قوت کے لیے جو آسامیاں کھلتی ہیں وہ زیادہ تر مردوں کو جاتی ہیں، مگر ایسے بہت مخصوص کام ہیں جن پر صرف خواتین کو بھرتی کیا جاتا ہے۔

بیرونِ ممالک سے اعلٰی تعلیم حاصل کر کے آنے والی خواتین کے لیے بھی اکثر اوقات اپنے ہنر کے مطابق ملازمت تلاش ممکن نہیں ہوتا۔ قدامت پسندی اور مواقع کی کمی کے ماحول میں خواتین کے لیے گھر سے نکل کر کام کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

قطر پاکستانیوں کو ورک ویزے کیوں نہیں دیتا؟

قطر میں مقیم پاکستانی خواتین کو بھی ایسے ہی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ زیادہ تر خواتین محض اپنے خاندان کے مردوں کے ہمراہ کے طور پر یہاں آتی ہیں۔

تاہم جہاں خواتین کی ایک بڑی تعداد گھر کی چار دیواری تک محدود ہو کر رہ جاتی ہے وہیں پاکستانی برادری میں ایسی خواتین بھی موجود ہیں جو ہر قسم کی رکاوٹیں عبور کر کے اپنے خاندان کی انفرادی یا معاشرتی ترقی میں تعمیری کردار ادا کر رہی ہیں۔

دقیانوسی سوچ یا شاونیت کا مقابلہ کرنا پڑے یا مردوں کے اس معاشرے میں اپنے لیے جگہ بنانی ہو، خواتین کامیابی کی مثالیں قائم کر رہی ہیں۔

نوجوان فیشن ڈیزائنرز سعدیہ خباب اور ماہ نور انصاری بھی ایسی خواتین میں شامل ہیں۔ حال ہی میں قطر میں ورجینیا کومن ویلتھ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے والی دونوں خواتین کے بنائے گئے کپڑوں کے ڈیزائنوں نے مقامی اداروں اور برانڈز سے ایوارڈ حاصل کیے۔

سعدیہ خباب کو رواں برس ان کے ڈیزائنز کی نمائش کے لیے امریکہ کے شہر میامی مدعو کیا گیا ہے جبکہ ماہنور انصاری کو حال ہی میں دوحہ میں منعقد ہونے والے مرسیڈیز بینز کے فیشن شو میں کپڑوں کے نمونوں کی نمائش کا موقع ملا۔

سعدیہ خباب نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں آغاز میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ’جب میں نے فیشن ڈیزائن میں جانے کا ارادہ کیا تو میں نے یہ بہت سنا کہ اس شعبے کے کئی ایسے پہلو ہوتے ہیں جو مناسب نہیں تو آپ یہاں کیوں جا رہی ہیں۔ لیکن میں ان سے یہی کہتی تھی کہ نہیں یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم کیا بنائیں اس کو کیسے دکھائیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے ڈیزائن کرنا شروع کیا تو انہوں نے خاندانی اقدار اور ثقافت کو مدِ نظر رکھا۔ انہوں نے کوشش کی کہ ایسے کپڑے بنائیں جن میں زیادہ جسم نظر نہ آئے یعنی جو عرب، پاکستانی یا مغربی ممالک کی خواتین سب پہن سکیں۔

’جب سب (خاندان والوں) نے میری کولیکشن دیکھی تو سب بہت خوش ہیں اور اس کو سراہا۔ مجھے خوشی ہے کہ انہوں نے اس حوالے سے اپنی سوچ بدلی ہے۔‘

ماہ نور سمجھتی ہیں کہ پاکستان میں بھی فیشن ڈیزائننگ میں کافی ترقی دیکھنے میں آئی ہے جس کی وجہ سے انہیں بھی اپنے کام کے لیے خاندانوں کی طرف سے رضامندی حاصل کرنے میں آسانی ہوئی۔

’میرے خیال میں پاکستان میں جو فیشن انڈسٹری نے ترقی کی ہے اسکی وجہ سے بھی خاندان والوں میں اس کام کے لیے قبولیت پائی جاتی ہے۔‘

Image caption نوجوان فیشن ڈیزائنرز کی طرح دو پاکستانی خواتین بشرٰی ریشم اور ان کی ساتھی نوال حفیظ بھی ان خواتین میں شامل ہیں جنہوں نے انفرادی کاوش اپنے کام کو منوایا اور معاشرے میں خود کے لیے جگہ بنائی۔

ماہ نور انصاری کا کہنا تھا کہ ثقافتی فرق ہر جگہ پایا جاتا ہے تاہم وہ ان کے کام کو متاثر نہیں کرتا کیونکہ وہ دونوں اقسام یعنی مغربی طرز اور قدامت پسند ڈیزائن بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

نوجوان فیشن ڈیزائنرز کی طرح دو پاکستانی خواتین بشرٰی ریشم اور ان کی ساتھی نوال حفیظ بھی ان خواتین میں شامل ہیں جنہوں نے انفرادی کاوش اپنے کام کو منوایا اور معاشرے میں خود کے لیے جگہ بنائی۔

قطر میں پیدا ہونے اور پرورش حاصل کرنے کے بعد دونوں اعلٰی تعلیم کے لیے ملک سے باہر چلی گئیں۔ واپسی پر ملازمت اختیار کی تاہم اس کام میں نہیں جو وہ کرنا چاہتیں تھیں یا جہاں وہ اپنی قابلیت کو استعمال میں لاتے ہوئے معاشرے میں تعمیری کردار ادا کر سکیں۔

چند برس کی کوشش کے بعد وہ اپنے لیے مقاصد کا تعین کرنے میں کامیاب ہوئیں اور ان کے حصول کے لیے لائحہ عمل طے کیا۔ بشرٰی اور نوال نے ذہنی طور پر پسماندہ بچوں کو تعلیم و تربیت دے کر معاشرے کا جزو بنانے کا مشکل کا کرنے کی ٹھانی۔

پاکستان ویلفئیر فورم قطر اور دی نیکسٹ جنریشن سکول کے تعاون سے انہوں نے دو برس قبل ایسے بچوں کے لیے تعلیم کا منصوبہ بنایا جن کو عام سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع نہیں ملتا تھا۔

انفرادی کوشش سے ترتیب دیا گیا نصاب اور اندازِ تدریس نے ان کے اس قدر کامیابی دی کہ اب قطر میں رہنے والے بہت سے والدین اپنے بچوں کو ان کے ہاں تعلیم دلانے کے خواہاں ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بشرٰی ریشم کا کہنا تھا کہ وہ ایسا ادارہ قائم کر رہی ہیں جہاں سے نکلنے والے بچے دیگر بچوں کی طرح زندگی کے ہر شعبے میں نہ صرف قبول کیے جائیں بلکہ ترقی کریں۔

’مستقبل میں ہمارا حدف یہ ہے کہ جب کسی ماں باپ کے ہاں ایسے بچے کی پیدائش ہو تو اس کو یہ نہ سوچنا پڑے کہ یہ کہاں پڑھے گا اور کہاں کام کرے گا۔‘

ایسے بچوں کی تعلیم کی جانب ان کا نقطہ نظر انگلی پکڑ کر نہیں، راستہ دکھا کر چلانے کا ہے۔

اسی بارے میں