پشاور میں جگہ جگہ ناکے، سکیورٹی سخت

سکیورٹی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پشاور میں زراعی ادارے پر حملے کے بعد سے سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں محکمہ زراعت کے تربیتی مرکز پر حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تدفین کر دی گئی ہے۔

ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق ایف آر ڈیرہ اسماعیل خان، کوہستان، بنوں، شانگلہ چکدرہ پشاور اور دیگر علاقوں سے بتایا گیا ہے ۔ نماز جنازہ میں ان علاقوں کے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

٭ ’لکڑیاں بیچ کر پڑھایا کہ بڑھاپے کا سہارا بنے‘

٭پشاور حملہ: خون، گولیوں کے نشانات اور بکھرے بستر

نامہ نگار عزیز اللہ خان نے بتایا کہ خیبر ٹیچنگ ہسپتال اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں آٹھ زخمی اب بھی زیر علاج ہیں ایک شدید زخمی کو اسلام آباد منتقل کر دیا گیا ہے ۔ بیشتر زخمیوں کو ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے ۔

پشاور میں جگہ جگہ ناکے لگے ہوئے ہیں اور سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ انسداد دہشت گردی کے تھانے میں ہفتے کو اس واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جس میں دہشت گردی کے علاوہ مختلف دفعات لگائے گئے ہیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
پشاور میں ایگری کلچر یونیورسٹی ڈائریکٹوریٹ میں حملے میں کم از کم نو افراد ہلاک ہوئے ہیں

اس واقعے کی تحقیقات مختلف زاویوں سے کی جا رہی ہیں اور ایسی اطلاعات ہیں کہ اس واقعے میں استعمال ہونے والے آٹو رکشہ کے نمبر تبدیل کیے گئے تھے۔ تاہم پولیس اس رکشہ کے اصل مالک تک پہنچنے کے لیے تفتیش کر رہی ہے۔

اس واقعے کے بعد پشاور شہر میں ایک مرتبہ پھر جگہ جگہ ناکے لگا دیے گئے ہیں اور پولیس گاڑیوں کو روک کر چیکنگ کر رہی ہے۔ پولیس نے بعض علاقوں میں سرچ آپریشنز بھی کیے ہیں جہاں چند ایک افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

حملہ آوروں کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں اور ایسی اطلاعات ہیں کہ ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے نمونے متعلقہ لیبارٹری کو بھیج دیے گئے ہیں۔

سکیورٹی حکام کے مطابق حملہ آور افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوئے تھے۔

اسی بارے میں