اقوامِ متحدہ اسرائیل کا بد ترین دشمن ہے: امریکہ

اقوام محتدہ میں امریکی کی سفیر نکی ہیلی تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی نے الزام لگایا ہے کہ اقوامِ متحدہ نے فلسطینیوں اور اسرائیلوں کے درمیان امن کے امکانات کو نقصان پہنچایا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ دنیا کے ان مراکز میں سے ایک ہے جو اسرائیل دشمنی میں پیش پیش رہے ہیں۔

مسز ہیلی اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک ہنگامی اجلاس سے خطاب کر رہی تھیں جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی سفارت خانے کو یروشلم منتقل کرنے کے فیصلے کے اعلان کے بعد طلب کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

فلسطینی ملاقات منسوخ کرنے سے باز رہیں: امریکہ

حماس کا انتفادہ کا اعلان، غربِ اردن اور غزہ میں جھڑپوں میں 31 فلسطینی زخمی

حماس کا اسرائیل کے خلاف انتقاد شروع کرنے کا مطالبہ

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیا

یروشلم دنیا کا سب سے متنازع شہر کیوں؟

امریکی صدر کے فیصلے کی دنیا بھر میں مذمت ہوئی ہے اور اس اعلان کے بعد غربِ اردن میں جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

فلسطینی شدت پسندوں کی جانب سے اسرائیلی علاقے میں راکٹ داغنے کے بعد اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں اہداف پر فضائی حملے کیے ہیں جن میں کئی افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

اس سے پہلے جعمے کو ایک فلسلطینی اس وقت ہلاک ہو گیا جب اسرائیل فوج نے ان افراد پر فائرنگ کی جو پتھر پھینک رہے تھے۔

صدر ٹرمپ کے اعلانِ یروشلم کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

مسز ہیلی کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کا فیصلہ 'اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے کہ یروشلم اسرائیل کا دارالحکومت ہے۔‘

انھوں نے اقوامِ متحدہ پر تعصب کا الزام لگایا اور کہا کہ امریکہ 'ایک پائیدار امن معاہدے کے حصول کی کوششوں کا پابند' رہے گا۔

'اقوامِ متحدہ یا دیگر ممالک جن کے بارے میں ثبوت درکار نہیں کہ وہ اسرائیل کی سلامتی کی پروا نہیں کرتے، اسرائیل کو ڈرا دھمکا کر یا دبا کر نہ کبھی کسی معاہدے کا پابند بنا سکیں گے اور نہ ایسا ہونا چاہیے۔'

فلسطینی نمائندے ریاض منصور نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے جو کیا ہے اس کے بعد امریکہ کبھی بھی امن کا امین نہیں ہو سکے گا۔

اسرائیل کے نمائندے ڈینی ڈینن نے امریکہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس نے جو کیا ہے وہ 'اسرائیل کے لیے، امن کے لیے اور دنیا کے لیے ایک سنگِ میل ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس سے پہلے وائٹ ہاؤس کی جانب سے فلسطینی حکام کو تنبیہ کی گئی کہ امریکی نائب صدر مائیک پینس کی فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات منسوخ کرنے کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔

بدھ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد فلسطینی حکام نے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس ماہ ہونے والی ملاقات اب نہیں ہو گی اور امریکی نائب صدر کو فلسطینی علاقوں میں خوش آمدید نہیں کیا جائے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد فلسطینی آزادی کی تحریک چلانے والی جماعت حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے اسرائیل کے خلاف انتفادہ شروع کرنے کا اعلان کیا۔

اسماعیل ہنیہ نے یہ اعلان غزہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس سے قبل فلسطین پر اسرائیلی قبضے کے خلاف انتفادہ کی دو تحریکیں چلائیں جا چکی ہیں۔

اسی بارے میں