تائیوان میں 6.4 شدت کا زلزلہ، متعدد عمارتیں منہدم

تصویر کے کاپی رائٹ Social media
Image caption تائیوان میں ہوٹل کی عمارت جو زلزلے کی وجہ سے ایک طرف جھک گئی

تائیوان کے شہر ہوالین میں منگل کی رات چھ اعشاریہ چار کی شدت سے آنے والے زلزلے کے نتیجے میں کم ازکم دو افراد ہلاک اور 200 سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔ زلزلے کے نتیجے میں بہت سی عمارتیں منہدم ہو گئی ہیں۔

زلزلہ مقامی وقت کے مطابق گیارہ بج کر پچاس منٹ پر آیا اور اس کا مرکز تائیوان کے ساحل سے بیس کلو میٹر دور سمندر میں تھا۔

ریسکیو اداروں کے اہلکاروں نے ہولین میں واقع رہائشی عمارت اور ہوٹل میں پھنسے ہوئے 150 افراد کو بحفاظت باہر نکال لیا۔

سوشل میڈیا پر لوگوں کی طرف سے لگائی جانے والی تصاویر سے اندازہ ہوتا ہے کہ کثیر المنزلہ عمارتوں اور سڑکوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ متاثرہ عمارتوں میں ہسپتال بھی شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption بہت سی کثیر منزلہ عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے

مارشل ہوٹل کی دس منزلہ عمارت کے گراؤنڈ فلور اور زیریں تہہ خانے میں کم ازکم تین اہلکار پھنسے ہوئے تھے جن میں سے ابھی تک ایک کو نکالا جا سکا ہے۔

عینی شاہد زینہ سٹاربک نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ وہاں اندر لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔ ہم ہوٹل کے اندر روشن لائٹس دیکھ سکتے ہیں۔‘

’لو گ اپنے موبائل کی روشنی آن کر کے یہ بتا رہے ہیں کہ وہ وہاں موجود ہیں۔‘

مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ نے اپنی حفاظت، کے لیے پیٹ کے بل چل کر باہر نکلے۔

حکومت نے مدد کے لیے فوج کو طلب کر لیا تھا۔

ہائی ویز اور رابطہ پلوں کو بہت نقصان پہنچا ہے اور وہ ٹریفک کے لیے بند کر دیے گئے ہیں اس وقت صورتحال یہ ہے کہ 40 ہزا مکانات پانی کے بغیر ہیں۔

سیاحت کے لیے معروف اس علاقے کی کل آبادی ایک لاکھ ہے۔

مقامی افراد سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے متاثرہ گھروں میں نہ جائیں۔ اب تک 600 افراد کو کمیونٹی بلڈنگز میں موجود شیلٹرز میں جگہ دی گئی ہے۔

دو سال قبل آج ہی کے روز تائیوان میں چھ اعشاریہ چار کی شدت سے زلزلہ آیا تھا جس کے نتیجے میں 117 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں