افغانستان میں امریکہ کے جنگی اخراجات 45 ارب ڈالر سالانہ

افغانستان میں امریکی فوجی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اس وقت مجموعی طور پر سولہ ہزار امریکی فوجی افغانستان میں موجود ہیں

افغانستان میں جاری جنگ کی امریکہ کے ٹیکس دھندگان کو ہر سال 45 ارب ڈالر قیمت ادا کرنی پڑتی ہے اور یہ جنگ مستقبل قریب میں ختم ہوتی نظر بھی نہیں آتی۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق امریکی منتخب اراکین نے جنہیں افغانستان میں کامیابی حاصل کرنے کا یقین نہیں، گزشتہ روز ٹرمپ انتظامیہ کو افغانستان میں طویل ترین جنگ اور اس جنگ کو جس سمت میں لے جایا جا رہا ہے اس پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

افغانستان میں جنگ سترہویں برس میں داخل ہو گئی ہے اور کوئی یہ نہیں کہہ سکتا یہ اور کتنے سال جاری رہے گی۔

امریکی ایوان بالا یعنی سینیٹ کی امور خارجہ سے متعلق کمیٹی میں کابل میں گزشتہ دنوں ہونے والے پے در پے حملوں جن میں دو سو افراد ہلاک ہو گئے تھے افغانستان جنگ کے بارے میں بات کی گئی۔

یہ بھی پڑھیے

ٹرمپ کے نعرے اور افغان حقیقت

'افغانستان میں جاری جنگ خانہ جنگی نہیں ہے‘

’افغان جنگ میں جنگی جرائم کے ارتکاب کے شواہد ہیں‘

امریکہ کے محکمۂ دفاع کے ایشیا کے بارے میں اعلی ترین اہلکار رینڈل شریور نے افغانستان میں امریکہ کے جنگی اخراجات کی تفصیل فراہم کرتے ہوئے کہا کہ پانچ ارب ڈالر سالانہ افغان افواج کے لیے مختص ہیں اور تیرہ ارب ڈالر افغانستان میں موجود امریکی فوجیوں کے اخراجات ہیں۔ باقی اخراجات رسد پر آتے ہیں جبکہ افغانستان کی معاشی ترقی کے لیے اٹھہتر کروڑ ڈالر صرف کیے جاتے ہیں۔

افغان جنگ سنہ دو ہزار دس اور سنہ دو ہزار بارہ میں جب اپنے عروج پر تھی اس وقت جنگی اخراجات اسے کہیں زیادہ تھے۔ اس دوران افغانستان میں امریکہ کے ایک لاکھ سے زیادہ فوجی تعینات تھے اور ان پر مجموعی طور پر ایک سو ارب ڈالر سے زیادہ کے اخراجات آ رہے تھے۔ اس وقت مجموعی طور پر سولہ ہزار امریکی فوجی افغانستان میں موجود ہیں۔

امریکہ میں حزب اقتدار رپبلکن اور حزب اختلاف ڈیموکریٹ پارٹی دونوں جماعتوں کے ارکان افغان جنگ پر ہونے والے اخراجات پر بات کرتے رہے ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے چھ ماہ قبل نے افغانستان کے بارے میں نئی حکمت عملی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ جنگ کا رخ موڑ دیں گے۔ لیکن انھوں نے کہ کہ وقت کا تعین نہیں کیا تھا کہ ایسا کرنے میں امریکی افواج کو کتنا وقت لگے گا اور وہ کب تک جنگ سے تباہ حال اس ملک میں موجود رہیں گے۔

رپبلکن سینیٹر رینڈ پال نے کہا کہ کروڑوں اربوں ڈالر ضائع کیے جا رہے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ 'ہم ایک کھائی میں پھنس گئے ہیں اور اس سے نکلنے کی بھی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption صدر ٹرمپ نے افغانستان کے بارے میں نئی حکمت عملی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ جنگ کا رخ موڑ دیں گے

ڈیموکریٹک سینیٹر ایڈ مراکی نے تجویز دی کہ اس رقم کا بہتر استعمال منشیات کے عادی امریکی شہریوں کو بچانا ہے۔ انھوں نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ افغان جنگ پر ہونے والے صرف دو ماہ کے خرچے کو بچا کر امریکہ کی ہر کاونٹی میں منشیات سے بحال کا مرکز کھولا جا سکتا ہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹر جیف مرکلی نے شکایت کی کہ ہر دو سال بعد امریکی حکومت یہ دعوی کرتی ہے کہ افغانستان میں بس جنگ کا پانسہ پلٹنے والا ہے۔ انھوں نے کہا کہ افغانستان میں کرپشن، مفلوج حکومت اور سکیورٹی فورسز اصل مسائل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جنگی دباؤ بڑھا کر طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کی امریکی امیدیں بھی باور ثابت ہوتی نظر نہیں آتیں۔

انھوں نے کہا کہ طالبان مذاکرات کے لیے کیوں تیار ہوں گے جب وہ افغانستان کے ایک بڑے حصہ پر قابض ہیں۔ سنہ دو ہزار ایک کی بنسبت طالبان افغانستان کے زیادہ بڑے حصے پر قابض ہیں۔

نائب وزیر خارجہ جان سلوین جنھوں نے گزشتہ ہفتے کابل کا دروہ کیا تھا اور افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کی تھی انھوں نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ افغانستان میں صورت حال کوئی روشن تصویر پیش نہیں کر رہی۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ کو افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کرانے کے لیے کوششیں کرتے رہنا چاہیں۔ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر اشرف غنی بھی اس سوچ کے مالک ہیں۔

صدر ٹرمپ کے اس بیان پر جس میں انھوں نے کہا تھا کہ امریکہ طالبان سے بات نہیں کرے گا سلوین نےکہا صدر اس بات پر زور دے رہے تھے کہ طالبان کی بڑی تعداد تشدد پر آمادہ ہے اور مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں