جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، کور کمانڈر کانفرنس میں غور

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ انڈیا کی طرف جنگی بندی کی خلاف ورزیاں امن کے لیے خطرہ ہیں اور انڈیا کی طرف سے کسی بھی فوجی مہم جوئی کا موثر جواب دیا جائےگا۔

یہ بھی پڑھیے

جنرل باجوہ کی ’سرجیکل سٹرائیکس‘ کے دعوے کی تردید

لائن آف کنٹرول پر فائرنگ، ’پانچ انڈین فوجی ہلاک‘

پاکستانی آرمی چیف کا لائن آف کنٹرول کا دورہ

’کسی بھی انڈین فوجی نے لائن آف کنٹرول عبور نہیں کی‘

یہ بات چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ بدھ کو راولپنڈی میں پاکستانی فوج کے ہیڈکواٹر میں کور کمانڈروں کے ایک اجلاس میں کی جس میں خطے کی دفاعی اور سکیورٹی صورت حال پر غو ر کیا گیا۔

پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ اس اجلاس میں خصوصی طور پر خطے کے بارے میں امریکہ کی فوجی پالیسیوں کے تناظر میں غور کیا گیا۔

اجلاس میں پاکستان کے اندر دہشت گرد گروہوں کے خلاف آپریشن ردالفساد کی پیش رفت اور کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر بھارت کی طرف سے بڑھتی ہوئی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لیا گیا۔

کور کمانڈر کانفرنس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن رد الفساد کے تحت کی جانے والی کارروائیوں کے نیتجے میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو مستحکم کیا جائے تاکہ پاکستان میں اور خطے میں دیرپا امن قائم کیا جا سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دونوں ممالک ایک دوسرے پر لائن آف کنٹرول پر بلااشتعل فائرنگ کے الزامات لگاتے رہتے ہیں

یاد رہے کہ دوسری طرف انڈیا بھی پاکستان فوج پر جنگی بندی کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرتا ہے اور انڈیا کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ ماہ جنوری میں کشمیر میں جنگی بندی کی خلاف ورزیوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔

انڈیا کی فوج کے سربراہ جنرل بپن روت نے گذشتہ روز ہی دعوی کیا تھا کہ جنگی بندی کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے پاکستان فوج کا نقصان انڈین فوج کی نسبت تین سے چار گنا زیادہ ہو رہا ہے۔

انڈین اخبار ٹائمز اف انڈیا کے مطابق انڈین فوج کے ایک اور اعلیٰ اہلکار کا کہنا تھا پاکستان فوج لائن آف کنٹرول پر اپنے جانی نقصان کے بارے میں اپنی پارلیمنٹ کو اس لیے نہیں بتاتی کیونکہ اس کو کہیں زیادہ نقصان اٹھانا پڑ ا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے اندازے کے مطابق گزشتہ سال لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے تبادلے اور مختلف کارروائیوں میں 130 سے 140 فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

پاکستان حکام کے مطابق لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باونڈری پر صرف جنوری کے مہینے کے پہلے بیس دن میں انڈیا کی طرف سے 150 خلاف ورزیاں کی گئیں جس میں نو شہری ہلاک اور چالیس کے قریب زخمی ہوئے۔

اس کے مقابلے میں گزشتہ سال انڈیا کی طرف سے ایک ہزار نو سو خلاف ورزیاں کی گئیں۔

گزشتہ اتوار کو لائن آف کنٹرول پر راجوری سیکٹر میں بھمبر گلی کے مقام پر فائرنگ کے تبادلے میں انڈین فوج کا ایک کپتان اور تین جوان ہلاک ہو گئِے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں