افغانستان میں 17 سال بعد بی 52 طیاروں سے بمباری

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
افغانستان میں بی 52 بمبار طیارے گرجنے لگے

افغانستان میں امریکی فضائیہ نے 17 سال بعد سب سے تباہ کن بمبار طیاروں بی 52 کا دوبارہ استعمال شروع کر دیا ہے اور اطلاعات کے مطابق ان طیاروں کے ذریعے شمالی صوبے بدخشاں میں طالبان کے تربیتی مراکز کو نشانہ بنا گیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق بدخشاں صوبے میں تاجکستان اور چین کی سرحدوں کے قریب علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔

بی 52 بمبار طیاروں کو افغانستان میں اس سے قبل سنہ 2001 میں استعمال کیا گیا تھا جب امریکی فوج کا مقصود طالبان کی حکومت کو ختم کرنا اور پاکستان کی سرحد کے قریب تورہ بورہ کے پہاڑوں میں القاعدہ کے رہمنا اسامہ بن لادن کی پناہ گاہوں کو تباہ کرنا تھا۔

بی 52 بمبار طیاروں کو دوبارہ استعمال کرنے کے مقصد کے بارے میں امریکی فضائیہ کی طرف سے کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ اس علاقے میں جسے نشانہ بنایا گیا ہے وہاں پر طالبان کے ٹھکانوں کے علاوہ چین کے صوبے سنکیانگ سے تعلق رکھنے والے اوغر شدت پسند بھی سرگرم ہیں۔ کچھ اطلاعات کے مطابق افغانستان کے اس دور افتادہ اور انتہائی کم آبادی والے علاقے میں ترکمانستان اسلامی موومنٹ کے مراکز اور تریبت گاہیں بھی قائم ہیں۔

یاد رہے کہ اس علاقے میں امریکہ نے پوری قوت سے بمباری ان خبروں کےبعد کی ہے جن کے مطابق چین اس علاقے میں ترکمانستان اسلامی موومنٹ اور اوغر شدت پسندوں کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے ایک فوجی اڈہ قائم کرنے کے لیے افغانستان کی حکومت سے مذاکرات کر رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بی 52 17 سال بعد افغانستان میں بمباری کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں

افغانستان میں دفاعی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بی 52 طیاروں کا دوبارہ استعمال افغانستان میں امریکی حکومت کی نئی دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت طالبان کو کمزور سے کمزور تر کرنے کی کوشش کرنا ہے۔

گذشتہ روز افغانستان میں طالبان تحریک نے امریکی عوام اور کانگریس کے ارکان کے نام ایک کھلے خط میں مذاکرات کی پیش کی تھی جسے نیٹو نے مسترد کر یا ہے۔

ماہرین ان خدشات کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہ چین اور ترکمانستان کی سرحدوں کے قریب بمباری سے خطے کے ملکوں کے ساتھ کشیدگی بھی بڑھ سکتی ہے۔

افغانستان کے دارلحکومت کابل میں گزشتہ چند مہنیوں میں طالبان اور دولت اسلامیہ نامی شدت پسند تنظیم نے کئی بڑی بڑی کارروائیاں کی ہیں جن میں سینکڑوں لوگ ہلاک ہو ئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ خبریں بھی سامنے آئی ہیں کہ افغانستان کے ستر فیصد علاقے پر طالبان کی عملداری قائم ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption افغانستان میں القاعدہ کے ٹھکانوں پر بھی بی 52 سے بمباری کی گئی تھی