مزید پاکستانی فوجی سعودی عرب بھیجنے کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان فوج کے دستے پہلے بھی سعودی عرب میں تعینات ہیں

پاکستانی فوج کے ایک اعلان کے مطابق پاکستانی فوج کے مزید دستوں کو مشاورتی اور تربیتی مشن پر سعودی عرب میں تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سعودی عرب میں پاکستانی فوجیوں کو تعینات کرنے کا فیصلہ اسلام آباد میں سعودی عرب کے سفیر نواف سیعد المالکی اور پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے درمیان ایک ملاقات میں کیا گیا۔

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ سعودی سفیر اور پاکستانی فوج کے سربراہ کے درمیان یہ اہم ملاقات راولپنڈی میں پاکستان فوج کے ہیڈ کواٹر میں جمعرات کو ہوئی۔

آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ کتنے مزید پاکستانی فوجی سعودی عرب بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور ان کی تعیناتی کی مدت کیا ہو گی۔

مزید پڑھیے

’حکومت راحیل شریف کو واپس آنے کا نہیں کہہ سکتی‘

این او سی جاری، راحیل شریف سعودی عرب روانہ

’فوج قطر بھیجنے کی خبریں من گھڑت اور بے بنیاد‘

آئی ایس پی آر کے پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ملاقات کے درمیان جنرل باجوہ اور سعودی عرب کے سفیر نے خطے کی دفاعی صورت حال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔

آئی ایس پی آر کے پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ پاکستان فوج کے تازہ دم دستے سعودی عرب میں پہلے سے موجود پاکستانی فوجیوں کے ساتھ شامل ہو جائیں گے اور پاکستان فوج کے ان دستوں کو سعودی عرب سے باہر کسی ملک میں تعینات نہیں کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسلامی اتحاد کی مشترکہ فوج کی سربراہی پاکستان فوج کے سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کو سونپ دی گئی

یاد رہے کہ چند سال قبل سعودی عرب نے یمن پر حملے سے پہلے پاکستان سے اپنی فوج بھیجنے کی درخواست کی تھی جس کو پارلیمنٹ کی ایک قراد داد پیش ہونے کے بعد مسترد کر دیا گیا تھا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سعودی عرب میں 1180 پاکستانی فوجی پہلے سے تعینات ہیں جو سنہ 1982 میں ہوئے ایک باہمی معاہدے کے تحت سعودی عرب بھیجے گئے تھے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط دفاعی تعلقات ہیں اور پاکستان کا نام 41 ممالک پر مشتمل اس اتحاد میں شامل ہے جو سعودی عرب نے اسلامی شدت پسندی کو ختم کرنے کے نام پر قائم کیا ہے۔

اس اسلامی اتحاد کی مشترکہ فوج کی سربراہی بھی پاکستان فوج کے سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کو سونپ دی گئی تھی۔

یہ اتحاد سعودی عرب کے جواں سال ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے گذشتہ سال تشکیل دیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں