پلک جھپکتے ہی! سوشل میڈیا پر ہٹ

  • سہیل حلیم
  • بی بی سی اردو، دلی
سنی لیونی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

سنی لیونی اب بھی سوشل میڈیا پر سب سے آگے ہیں

اگر آپ اکیسویں صدی میں جیتے ہیں تو پریا پرکاش وارئر کا نام تو آپ نے سنا ہی ہوگا، انہوں نے ایک پلک کیا جھپکائی، سوشل میڈیا کی دنیا میں انقلاب آگیا!

پریا کی پہلی فلم ابھی ریلیز ہونا باقی ہے، لیکن ان کی دلکش مسکراہٹ اور اداؤں نے دنیا بھر میں ان کے چاہنے والوں کا ایک لشکر کھڑا کردیا ہے۔ وہیں آج کل زیادہ تر جنگیں لڑی جاتی ہیں۔

انسٹاگرام پر اب انہیں فالو کرنے والوں کی تعداد پلک جھپکتے ہی 35 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ فیس بک پر فرینڈ ڈھائی لاکھ سے زیادہ اور ٹوئٹر پر درجنوں اکاؤنٹس پریا وارئر کا اصلی ٹوئٹر ہینڈل ہونے کا دعوی کر رہے ہیں۔ سب میں فالوئرز کی تعداد ہزاروں میں ہے۔

اور تین چار دن پہلے تک ان میں سے کسی نے شاید ہی ان کا نام سنا ہو۔

انسٹاگرام پر امیتابھ بچن کے چاہنے والوں کی تعداد تہتر لاکھ ہے۔ سر، ابھی تو صرف دو تین دن ہی ہوئے ہیں! لیکن بہت ناانصافی ہے، ایک طرف پچاس سال کا کیرئر دوسری طرف پہلی ریلیز کا انتظار!

لیکن سوشل میڈیا کی بے تاج ملکہ اب بھی سنی لیونی ہی ہیں جو اپنے پہلے اوتار میں پارن سٹار ہوا کرتی تھیں۔ انسٹاگرام پر ان کے ایک کروڑ دس لاکھ سے زیادہ فالوئر ہیں اور گزشتہ چند دنوں کے تمام ہنگامے کے باوجود گوگل پر ان کا نام سرچ کرنے والوں کی تعداد پریا وارئر سے کہیں زیادہ رہی حالانکہ اس دوران وہ خبروں میں بھی نہیں تھیں۔

پلک جھپکتے ہی مشہور ہونے والوں میں نیرو مودی بھی شامل ہیں۔ ہیروں کے مشہور بیوپاری جو بنکوں کےتقریباً پونے دو ارب ڈالر لے کر پلک جھپکتے ہی ملک سے غائب ہوگئے ہیں۔ انسٹاگرام پر ان کے فالوئرز کی تعداد 75 ہزار ہے، اب اس میں ان تفتیش کاروں اور صحافیوں کو اور جوڑ دیجیے جو ان کی تلاش میں لگے ہوئے ہیں۔ پرینکا چوپڑا ان کی برانڈ ایمبیسڈر ہیں اور اخبارات کے مطابق اس مبینہ گھپلے کے منظرعام پر آنے کے بعد اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونا چاہتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہOru Adaar Love

،تصویر کا کیپشن

اسی گانے سے لیے گئے 26 سیکنڈ کے ایک ویڈیو کلپ نے جنوبی ہند کی ریاست کیرالہ کی ایک لڑکی پریا وریئر کو ملک بھر کے نوجوانوں کی ڈریم گرل بنا دیا

پریا پرکاش کی زندگی تو بدل گئی ہے اور دوسری پلک جھپکنا ابھی باقی ہے۔ لیکن سنی لیونی کا مقابلہ کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ وہ پردے پر تو اپنے جوہر دکھاتی ہی ہیں لیکن اب کھیتوں میں فصل کی رکھوالی کے لیے بھی ان کی تصویر استعمال کی جارہی ہے!

شاید اسی لیے لوگ ان کے بارے میں گوگل پر اتنا سرچ کرتے ہیں! حکومت فصل کی انشورنس کے لیے اتنی رقم خرچ کرتی ہے، لیکن اس بارے میں کتنے لوگ معلومات حاصل کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس کی وجہ شاید یہ ہو سکتی ہے کہ کسان اب نقصان کی نوبت آنے ہی نہیں دیتے۔ گاؤں دیہات میں لوگ آپس میں بیٹھ کر بات کرتے ہوں گے کہ بھائی، ذرا انٹرنیٹ پر دیکھوں، دھان کی فصل بچانے کے لیے سنی لیونی کی کوئی نئی تصویر آئی ہے کیا؟

سنی لیونی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ دیکھنے سے لگتا ہے کہ انہوں نے ماہرین کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں۔ اس لیے زیادہ حیرت مت کیجیے گا کہ اگر ان کی مارکٹنگ ٹیم جلدی ہی ایسی تصویروں کی ایک سیریز جاری کردے۔

دھان کے لیے الگ اور گندم کے لیے الگ۔

دو چار جگہ لگا دیں گے، دل بھی لگا رہے گا، فصل بھی بچی رہے گی!