لڑکی کی مبینہ گمشدگی کی شکایت پر والدہ گرفتار

Image caption انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی بیٹی گزشتہ سال سے لاپتہ ہیں

مصر میں ایک خاتون جس نے اپنی بیٹی کی جبری گمشدگی اور اس پر تشدد کی کہانی بی بی سی کو بیان کی تھی اسے مصری حکام نے جھوٹی خبریں پھیلانے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس خاتون کو پندرہ دنوں کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔

گزشتہ ہفتے بی بی سی نے زبیدہ نامی ایک لڑکی کی گمشدگی کی خبر دی تھی جو اپریل 2017 سے لاپتہ ہیں۔

اس خبر کی اشاعت کے بعد پیر کو زیبدہ ایک ٹی وی ٹاک شو میں نمودار ہوئیں اور انھوں نے اپنی جبری گمشدگی اور تشدد کی خبر کو بے بنیاد قرار دیا۔

مصر کے نشرو اشاعت کے ادارے نے بی بی سی سے اپنی اس خبر جسے وہ بے بنیاد اور صریحاً جھوٹ قرار دے رہے ہیں معذرت کرنے کا کہا ہے۔

لیکن بی بی سی نے کہا ہے کہ اسے اپنی رپورٹنگ ٹیم پر مکمل اعتماد ہے اور وہ مصر کی اس شکایت پر آئندہ چند دنوں میں مصر کے حکام سے بات کرے گی۔

مصر کے سرکاری اخبار الاحرام نے دعوی کیا ہے کہ زبیدہ کی والدہ پر ملکی سلامتی کے خلاف جھوٹ پر مبنی خبریں شائع اور نشر کرنے اور ایسے غیر قانونی گروہ میں شامل ہونے کا الزام ہے جو کہ اپنی شناخت ظاہر نہیں کرتا۔

زبیدہ کے ٹی وی انٹرویو کے بعد ان کی والدہ نے اخوان المسلمین سے وابستہ ترکی میں قائم ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو میں کہا کہ ان کی بیٹی کو زبردستی ٹی وی پر پیش کر کے اپنی جبری گمشدگی سے متعلق بیان دلوایا گیا۔

انھوں نے کہا کہ وہ بی بی سی کو دیئے گئے اپنے بیان پر قائم ہیں کہ ان کی بیٹی پر تشدد کیا گیا ہے۔

دریں اثناء مصر میں انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں نے اطلاع دی ہے کہ ایک وکیل جن کا نام عزت غونیم بتایا جا رہا ہے اور جو زبیدہ کے کیس کی پیروی کر رہے تھے وہ بھی عدالت سے اپنے گھر جاتے ہوئے لاپتہ ہو گئے ہیں۔ مصرکے حکام کی طرف سے اب تک اس بارے میں کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہےکہ وہ عزت غونیم کی گمشدگی کے بارے شدید تشویش کا شکار ہیں۔ ایمنسٹی نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ عزت غونیم کا جلد از جلد پتا چلایا جائے اور اگر وہ سرکاری حراست میں ہیں تو انھیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔

زبیدہ کی والدہ کی گرفتاری صدر السیسی کے اس بیان کے اگلے ہی روز عمل میں آئی ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ملک کے دفاعی اداروں کے خلاف کوئی بھی بیان بغاوت کے زمرے میں آئے گا۔ صدر سیسی نے کہا تھا کہ پولیس اور فوج کے خلاف کوئی بیان پورے مصر کو بدنام کرنے کے مترادف ہے اور یہ آزادی رائے نہیں ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں