پاکستان اور روس کے بڑھتے ہوئے تعلقات

پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خواجہ آصف نے اس سال جنوری میں روس کا دورہ کیا تھا

امریکہ اور پاکستان کے ہچکولے کھاتے ہوئے تعلقات کے پس منظر میں ماضی کے دو بدترین حریف روس اور پاکستان کے درمیان سفارتی اور اقتصادی تعلقات بہتر کرنے کی سنجیدہ کوششیں جاری ہیں جس سے نہ صرف خطے کی روایتی سیاسی اور دفاعی ہیت بدل جائے گی بلکہ روس کی گیس کمپنیوں کے لیے نئی منڈیاں بھی کھل جائیں گے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق روس کا پاکستان کی طرف جھکاؤ ایک انتہائی اہم وقت میں دیکھا جا رہا ہے جب امریکہ اور پاکستان کے درمیان افغانستان میں جاری جنگ کی وجہ سے فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔

یہ صورت حال اسی کی دہائی میں سویت یونین کے افغانستان پر قبضے کے بالکل برعکس ہو گئی ہے جب امریکی ہتھیار پاکستان کے راستے افغانستان میں موجود روسی فوجیوں کے خلاف لڑنے کے لیے فراہم کیے جا رہے تھے۔

گو کہ ماسکو اور اسلام آباد میں بڑھتی ہوئی گرمجوشی ابھی ابتدائی نوعیت کی ہے اور چین اس خلیج کو پر کرنے کی کوششوں میں ہے جو امریکہ اور پاکستان کے تعلق میں تلخی سے پیدا ہو گئی ہے۔ لیکن روس اور پاکستان کے درمیان توانائی اور دفاعی شعبوں میں تعاون کے روشن امکانات موجود ہیں جو دونوں ملکوں کے دہائیوں سے مردہ تعلقات میں جان ڈالنے کے لیے کافی ہیں۔

پاکستان کے وزیر دفاع خرم دستگیر خان نے روئٹرز کو بتایا کہ 'یہ ایک موقع ہے۔' انھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کو مستقبل کا دروازہ وا کرنے کے لیے ماضی کے معاملات پر کام کرنا ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان کے فوجی حکام جدید ترین روسی ہیلی کاپٹر ایم آئی 28 کا معائنہ کر رہے ہیں

باہمی تعلقات میں حالیہ گرمجوشی فی الحال افغانستان تک محدود ہے جہاں روس نے اپنے ہی خلاف لڑنے والے طالبان سے روابط استوار کر لیے ہیں اور جو روایتی طور پر پاکستان کے قریب رہے ہیں۔ روس کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں مذاکرات کے ذریعےقیام امن کی کوششوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔

روس اور پاکستان دونوں ملک، افغانستان میں نام نہاد دولت اسلامیہ نامی شدت پسند تنظیم کی موجودگی اور اس کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر شدید تشویش کا شکار ہیں۔ دونوں ملکوں کو خدشہ ہے کہ افغانستان میں داعش کی موجودگی سے انھیں سلامتی کے سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ داعش پاکستان کے اندر دہشت گردی کی وارداتیں کر چکی ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے روئٹرز کو بتایا کہ روس کے ساتھ سفارتی سطح پر بہت سے مشترکہ امور کی نشاندھی کر لی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ رشتہ مستقبل میں بہت مضبوط اور مستحکم ہو گا۔

گذشتہ مہینے پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف کے دورۂ ماسکو کے دوران دونوں ملکوں نے داعش کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک مشترکہ دفاعی کمیشن تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا۔

دونوں ملکوں نے سالانہ مشترکہ تربیتی جنگی مشقیں بھی جاری رکھنے پر اتفاق کیا جن کا آغاز سنہ 2016 میں کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ چار روسی ساخت کے لڑاکا ہیلی کاپٹروں اور پاکستان میں بنائے جانے والے جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کے لیے روسی ساخت کے انجنوں کی خریداری پر بھی اتفاق ہوا۔

تاریخی طور پر روس کا حلیف پاکستان کا ہمسایہ ملک اور روایتی حریف انڈیا روس اور پاکستان میں بڑھتے ہوئے تعلقات پر تشویش کا شکار ہے۔ گذشتہ دو دہائیوں میں روس اور انڈیا کے درمیان قریبی تعلقات کا اہم عنصر روس سے اپنے دفاعی شراکت دار کو بڑے پیمانے پر اسلحے کی فروخت تھی۔

دہلی میں قائم ایک تحقیقاتی ادارے سے وابستہ افغانستان اور پاکستان کے امور کے ماہر ششانت سرین نے کہا کہ اگر سیاسی سطح پر روس پاکستان کی کھل کر حمایت کرنا شروع دیتا ہے تو اس سے انڈیا کے لیے مشکل پیدا ہو جائے گی۔

انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے روس اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات پر کوئی رد عمل ظاہر کرنے سے انکار کر دیا۔ ماضی میں انڈیا کہہ چکا ہے کہ روس اور بھارت کے تعلقات وقت کی کسوٹی پر پورے اترے ہیں اور دونوں ملک توانائی اور دفاع کے شعبوں میں تعلقات مضبوط کر رہے ہیں اور ان میں انڈیا کے جوہری ریکٹرز کے لیے تعاون بھی شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption روس میں ہونے والی مشترکہ جنگی مشقیں جن میں پاکستان کے فوجی بھی شریک تھے

روس سے تعاون کے دروازے کا وا ہونا پاکستان کے لیے خطے میں سفارتی سطح پر نئی زندگی ملنے کے مترادف ہے کیونکہ دہشت گردوں سے مبینہ روابط پر مغربی ملکوں سے پاکستان کے سفارتی تعلقات بگڑتے چلے جا رہے ہیں۔

امریکہ کے دباؤ پر اس کے مغربی اتحادیوں برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے فائنینشل ٹاسک فورس کے اجلاس میں پاکستان کا نام اس سال جون سے ان ملکوں کی فہرست میں شامل کرنے کی منظوری دی ہے جو دہشت گردی اور دہشت گرد گرہوں کے خلاف تسلی بخش کارروائی کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

امریکہ کی طرف سے فائنینشل ٹاسک فورس میں پاکستان کا نام شامل کروانے پر پاکستانی حکام کا کہنا تھا کہ یہ محظ پاکستان کو عالمی سطح پر رسوا کرنے کی کوشش ہے۔ اس سے قبل جنوری میں امریکہ نے پاکستان کی دو ارب ڈالر کی دفاعی اور اقتصادی امداد بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔

پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان نے سو فیصد مغربی ملکوں پر انحصار کرنے کی پالیسی اختیار کر کے ایک تاریخی غلطی کی تھی اور اب پاکستان جغرافیائی لحاظ سے قریبی ملکوں چین، روس اور ترکی سے تعلقات بہتر کرنا کا خوہاں ہے۔

روئٹرز سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کے تاریخی عدم توازن کو درست کرنا چاہتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ مغرب سے مکمل طور پر تعلقات ختم کرنے کی بات نہیں کر رہے بلکہ خارجہ پالیسی میں توازن پیدا کرنے کی بات کر رہے ہیں اور خطے میں موجود ملکوں سے تعلقات مضبوط کرنے کی بات کر رہے ہیں۔

وزیر دفاع خرم دستگیر خان نے کہا کہ پاکستان کی فوج کا روایتی طور پر امریکی اسلحے پر انحصار تھا اب اس کے پاس کوئی روس سے اپنی دفاعی ضروریات پوری کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔

امریکہ سے تعلقات میں سرد مہری پہلے ہی پاکستان کو چین کی طرف دھکیل رہی ہے جو پاکستان میں سماجی ڈھانچے پر ساٹھ ارب ڈالر خرچے کرنے کے منصوبہ بنا رہا ہے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان ضرورت سے زیادہ چین پر انحصار کرنے سے بھی گریز کرنا چاہتا ہے۔

سٹاک ہوم میں قائم ایک تحقیقاتی ادارے انٹرنیشنل پیس رسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مبصر پیٹر ٹوپیچکانوف کے مطابق پاکستان قطر اور فلپائن جیسے ملکوں میں شامل جن کے امریکہ سے تعلقات خراب ہونے کےباعث روس اپنے قریب لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ روس کے پاکستان سے تعلقات بہتر کرنے کے طویل المدتی عزائم ابھی واضح نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption روس میں ہونے والی ایک پریڈ میں شامل پاکستان فوج کا دستہ

انھوں نے کہا کہ روس میں پالیسی سازی میں شفافیت نہیں برتی جاتی اور عوامی سطح پر اس بارے میں کوئی بات نہیں کی جا رہی۔ انھوں نے کہا کہ روس کے عوام پاکستان سے کیا چاہتے ہیں اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

روس کی وزارتِ خارجہ بھی پاکستان سے اپنے بہتر ہوئے تعلقات پر کھل کر بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

توانائی کے منصوبے

روس اور پاکستان توانائی کے منصوبوں پر مذاکرات ہو رہے ہیں جن کی کل مالیات پاکستانی حکام کے مطابق دس ارب ڈالر سے زیادہ کی ہے۔

خواجہ آصف کے بقول بجلی پیدا کرنے کے چار سے پانچ بڑے منصوبے پاکستان اور روس کو مزید قریب لا سکتےہیں۔ روس نے گذشتہ ہفتے پاکستان کے صوبے خیبر پختوان خوا میں ایک اعزازی قونصلر تعینات کرنے کا اعلان کیا جہاں روس کی کمپنیاں ایک تیل صاف کرنے کا کارخانہ اور ایک بجلی پیدا کرنے کا کارخانہ لگانے کی بات چیت کر رہی ہیں۔

لیکن سب سے بڑے سودے کا محور پاکستان کو گیس کی فراہمی اور وہاں گیس سے متعلق انفراسٹکچر کی تعمیر ہے۔ پاکستان مائع گیس کی ایک بڑی منڈی کے طور پر ابھر رہا ہے۔

پاکستان کے ایک اعلی سرکاری اہلکار نے کہا کہ روس توانائی کے شعبے میں تیزی سے آگے آ رہا ہے۔

گذشتہ سال اکتوبر میں پاکستان اور روس نے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت روس کی بڑی کمپنی گیزپرام پاکستان کو مائع گیس سپلائی کرنے کے لیے مذاکرات شروع کرے گی۔

اس کے علاوہ روس لاہور سے کراچی تک ایک ہزار ایک سو کلو میٹر طویل گیس پائپ لائن بچھائے گی۔ ستر کی دہائی میں جب روس نے کراچی میں سٹیل مل لگائی تھی اس کے بعد سے پاکستان میں روس کا یہ سب سے بڑا منصوبہ ہو گا۔

اس کے علاوہ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ روس کراچی سٹیل ملز کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے میں بھی دلچسپی ظاہر کر چکا ہے۔

اسی بارے میں