اسرائیلی فوج نے کس بات کا اعتراف کیا ہے؟

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
اسرائیلی فوج نے 2007 کی اس فضائی کارروائی کی ویڈیو جاری کی ہے۔

اسرائیل نے پہلی بار اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ انھوں نے 2007 میں شام میں زیرِ تعمیر ایک مبینہ جوہری ری ایکٹر کو نشانہ بنایا تھا۔

اسرائیلی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے دمشق سے 450 کلومیٹر شمال مشرق دور واقعہ دیر الزور صوبے میں الکبر کے مقام پر ری ایکٹر کو نشانہ بنایا کو کہ اطلاعات کے مطابق تکمیل کے قریب تھا۔

واضح رہے کہ شامی حکومت نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ وہ ری ایکٹر تعمیر کر رہے تھے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل اس بات پر پرعزم ہے کہ ان کے مخالف ملک جوہری ہتھیار تیار نہ کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیں

دنیا کے جوہری ہتھیار کہاں کہاں ہیں؟

اسرائیل کے عربوں سے بڑھتے تعلقات

ایران کے پاس کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے: ٹرمپ

کیا انڈیا اور چین کی جنگ میں جوہری ہتھیار استعمال ہو سکتے ہیں؟

انھوں نے ٹوئٹر پر کہا کہ ’اسرائیلی حکومت، اسرائیلی فوج، اور انٹیلیجنس سروس موساد نے شام کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے سے روکا۔ یہ سب اس کے لیے تعریف کے مستحق ہیں۔‘

’اسرائیلی کی پالیسی یہ ہے اور یہی رہی ہے۔۔۔ اپنے دشمنوں کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا۔‘

واضح رہے کہ شام اس کارروائی سے قبل ہی جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے این پی ٹی پر دسیخط کیے ہوئے تھا جس کے تحت اسے بجلی پیدا کرنے کے لیے جوہری ری ایکٹر بنانے کا حق تھا تاہم اسے آئی اے ای اے کو مطلع کرنا ضروری تھا۔

1981 میں صدر صدام حسین کے دورِ حکومت کے دوران بھی اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے عراقی دارالحکومت بغداد کے جنوب مشرق میں ایک جوہری ری ایکٹر کی تعمیر کے دوران اسے نشانہ بنایا۔

اسرائیلی فوج نے کس بات کا اعتراف کیا ہے؟

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ 2004 کے آخری چند ماہ میں ایک بڑا انٹیلیجنس آپریشن شروع کیا گیا جب اسرائیلی جاسوسوں کو معلوم ہوا کہ غیر ملکی ماہرین شام کو جوہری پروجیکٹ میں مدد کر رہے ہیں۔ خیال کیا جا رہا تھا کہ یہ ماہرین شمالی کوریائی تھے۔

جب اسرائیلی انٹیلیجنس برادری نے اس ری ایکٹر کے مقام کا تعین کرلیا تو اسرائیلی فوج نے ایک فضائی کارروائی کا منصوبہ بنایا جب کا نام آپریشن آؤٹ سائڈ دی باکس رکھا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امریکہ نے 2008 میں اس مبینہ شامی جوہری ری ایکٹر کی تصاویر جاری کی تھی۔

ستمبر 2007 میں اسرائیلی فضائیہ نے ایف 16 اور ایف 15 طیاروں کی مدد سے دیر الزور صوبے میں الکبر کے مقام کو نشانہ بنایا۔ اس آپریشن میں چار گھنٹے لگے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس کارروائی کے بارے میں تصدیق یا تردید یا اس حوالے سے کوئی بھی معلومات عام نہیں کیں کیونکہ اس وقت سکیورٹی صورتحال انتہائی حساس تھی۔

شامی فوج نے اس کارروائی کا جواب نہیں دیا۔ صدر بشار الاسد کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج نے صرف فوجی عمارتوں کو زیرِ تعمیر عمارتوں کو تباہ کیا جن کو استعمال بھی نہیں کیا جا رہا تھا۔

2011 میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) اس نتحجے پر پہنچی تھی کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ یہ مقام جوہری ری ایکٹر تھا۔

اسرائیلی این پی ٹی کا رکن ملک نہیں ہے تاہم مانا جاتا ہے کہ اس کے پاس جوہری ہتھیار ہیں مگر وہ اس حوالے سے تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔

اسی بارے میں