گھوڑا رکھنے پر دلت نوجوان قتل

Image caption ہر برس مہاراشٹر میں ہزاروں کسان غربت کے سبب خودکشی کر تے ہیں

انڈیا میں ہندو سماج کے سب سے نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کو گھوڑا رکھنے پر مار مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

'ہزاروں دلت ہندو سے بدھ ہو گئے‘

'گائے کی موت پر ہنگامہ اور دلت پر خاموشی'

انڈیا کی ریاست گجرات میں اونچی ذات سے تعلق رکھنے والے تین افراد کو اس واقع میں ملوث ہونے کے شبہہ میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ہلاک ہونے والے شخص کے والد نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے بیٹے کو دھمکی دی گئی تھی کہ گھوڑا رکھنے اور اس پر سواری کرنے کا حق صرف اونچی ذات کے ہندووں کا ہے اور اگر انھوں نے گھوڑے کی سواری بند نہ کی تو انھیں نتائج بھگتنا پڑیں گے۔

گھوڑا رکھنا انڈیا کے دیہات میں امارت اور سماجی حیثیت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

ایک پولیس اہلکار نے کہا کہ اس واردات کے اصل محرکات جاننے کے لیے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

نچلی ذات کے ہندووں جنھیں دلت یا اچھوت بھی کہا جاتا ہے ان پر اونچی ذات کے ہندووں کی طرف سے جبر اور تشدد کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔

گزشتہ برس ریاست گجرات ہی میں ایک دلت نوجوانوں کو ایک مذہبی تقریب میں روائتی رقص میں حصہ لینے کی پاداش میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔

انڈیا کے قانون کے مطابق ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک روا رکھنا جرم ہے لیکن اس کے باوجود نچلی ذات کے افراد سے امتیازی سلوک روا رکھنا عام بات ہے اور نچلی ذات پر تشدد کے واقعات بھی اکثر و بیشتر پیش آتے رہتے ہیں۔

انڈیا میں سخت گیر مذہبی سوچ کی حامل بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد اقلیتوں پر حملوں کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

متعلقہ عنوانات