کوئٹہ میں فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ‘ کے واقعات، فائرنگ سے کم سے کم تین افراد ہلاک

کوئٹہ، ہزارہ، ٹارگٹ کلنگ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جان محمد روڈ پر پیش آنے والے واقعات فرقہ وارانہ بنیاد پر ٹارگٹ کلنگ کے واقعات تھے: پولیس

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں نامعلوم افراد نے ایک مرتبہ پھر دکانوں پر فائرنگ کر کے کم ازکم تین افراد کو ہلاک کر دیا ہے اور دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔

کوئٹہ میں 72 گھنٹوں کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں دکانوں پر فائرنگ کا یہ تیسرا واقعہ ہے جس میں مجموعی طور پر چھ افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

کوئٹہ: فائرنگ سے ہزارہ قبیلے کے دو افراد ہلاک

پانچ سو دسواں ہزارہ

ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف تادم مرگ بھوک ہڑتال

کوئٹہ: ’ٹارگٹ کلنگ‘ کے واقعے میں چار افراد ہلاک

نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کا یہ حالیہ واقعات جان محمد روڈ پر اتوار کی شب پیش آئے۔

انڈسٹریل پولیس اسٹیشن کے ایک اہلکار نے بتایا کہ موٹر سائیکل پر نامعلوم مسلح افراد جان محمد روڈ پر آئے اور انھوں نے پانچ دکانوں میں موجود افراد پر فائرنگ شروع کر دی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے بعد حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔ زخمی افراد کو طبی امداد کے لیے سول ہسپتال منتقل کیا گیا۔

پولیس اہلکار کے مطابق جان محمد روڈ پر پیش آنے والے واقعات فرقہ وارانہ بنیاد پر ٹارگٹ کلنگ کے واقعات تھے جس میں سنی مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنایا گیا۔

سینیچر کو جماالدین روڈ پر ایک دکان پر فائرنگ سے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے ہزارہ برادری کے دو افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ جمعہ کو طوغی روڈ پر فائرنگ سے ایک مذہبی عالم دین کا چھوٹا بھائی ہلاک ہوا تھا۔

72 گھنٹوں کے دوران دکانوں پر فائرنگ کے واقعات میں مجموعی طورپر 6 افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کمیشن کی رپورٹ کے مطابق ہزارہ افراد کی بڑی تعداد میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات سنہ 2000 کے بعد پیش آئے

پولیس حکام کے مطابق جمال الدین افغانی روڈ اور طوغی روڈ پر پیش آنے والے واقعات بھی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات تھے۔

کوئٹہ میں رواں مہینے کے دوران ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ایک مرتبہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔

اتوار کی شب دکانوں پر ہونے والے ان حملوں سے قبل ٹارگٹ کلنگ کے چھ واقعات پیش آئے جن میں 12افراد ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔

اپریل کے مہینے میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں مجموعی طور پر 15 افراد مارے گئے جن میں سے پانچ افراد کا تعلق ہزارہ قبیلے اور 6 کا تعلق مسیحی برادری سے تھا۔

اسی بارے میں