’جبری گمشدگیوں کو سیاسی رنگ دیا گیا‘

لاپتہ افراد

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

جبری طور پر لاپتہ افراد کے لواحقین اکثر احتجاج کرتے ہیں

جبری طور پر گمشدہ افراد سے متعلق بنائے گئے کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا ہے کہ جبری طور پر گمشدہ ہونے والے افراد کے معاملے کو سیاسی بنا دیا گیا ہے اور گزشتہ پندرہ سال کے دوران آنے والی حکومتوں نے اس طرح کام نہیں کیا جس کا یہ اہم معاملہ متقاضی تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ پارلیمٹنٹ میں جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد سے متعلق قانون سازی بھی نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیے

منگل کے روز مصطفی نواز کھوکھر کی سربراہی میں انسانی حقوق سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ان افراد کو بھی جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد کی فہرست میں شامل کیا گیا جو کالعدم تنظیموں کے سربراہوں کے ساتھ بیرون ممالک چلے گئے ہیں ان میں تحریک طالبان پاکستان کے سابق سربراہ ملا فضل اللہ کے علاوہ صوفی محمد اور حربیار مری بھی شامل ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ جولائی سنہ2018 تک ملک بھر سے جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد کی تعداد 3462 ہے جبکہ ان کے ریکارڈ کے مطابق سنہ 2011سے لےکر اب تک جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد کے کیسز کی تعداد 5280 ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ حکومت پاکستان ابھی تک یہ بھی معلوم نہیں کرسکی کہ ہمسایہ ملک افغانستان کے صوبوں نگر ہار اور پکتا کی جیلوں میں کتنے پاکستانی قید ہیں۔ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا کہ ان صوبوں میں تو افعانستان کی حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ان جیلوں میں جتنے بھی پاکستانی قید ہیں ان کا تعلق صوبہ خیبر پختون خوا اور بلوچستان سے ہے۔

جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ رقبے کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں جبری طور پر لاپتہ افراد کی تعداد سب سے کم ہےں جو کہ 131 بتائی جاتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

کئی غی سرکاری تنظیموں کے مطابق حکومتی اعداد و شمار سے لاپتہ افراد کی تعداد کہیں زیادہ ہے

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

اُنھوں نے کہا کہ وہ بلوچستان کے چپے چپے سے واقف ہیں اور وہاں پر لوگ ذاتی دشمنیوں کی بنا پر لوگوں کو اغوا کرتے ہیں۔

جبری طور پر لاپتہ افراد کے چیئرمین کے دعوے کے برعکس غیر سرکاری تنظیمیوں کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ لاپتہ ہونے والے افراد کی تعداد بلوچستان سے ہی ہے جو کہ ہزاروں میں ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی حمایتی جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کوئی وزارت لینے سے انکار کردیا تھا اور حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ بلوچستان سے جبری گمشدگیوں کا سدباب کیا جائے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران سردار اختر مینگل نے ان کے بقول ان ہزاروں افراد کی فہرست پیش کی تھی جنہیں جبری طور پر گمشدہ کیا گیا ہے۔ بلوچستان نیبشل پارٹی کے سربراہ نے قومی اسمبلی کے سپیکر کو جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد کی فہرست کو قومی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی کا حصہ بنانے کی بھی درخواست کی تھی۔

جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ اگر ایک بندہ لاپتہ ہو جائے تو پورے خاندان کو بیٹھا کر میڈیا کے سامنے اجاگر کیا جاتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ صوبہ سندھ سے جبتے لوگوں کو جبری طور پر اغوا کیا گیا ہے ان میں زیادہ کیسز حکمراں اتحاد میں شامل جماعت ایم کیو ایم کے ہیں۔

جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد کے کمیشن کے اعزای چیئرمین ہیں ۔