ایرانی تیل کے خریداروں کو استثنیٰ دینے کے لیے تیار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا ایرانی تیل کا بڑا خریدار ہے

واشنگٹن انڈیا جیسے ایرانی تیل کے خریدار ملکوں کو ایران سے تجارت کرنے پر لگائی جانے والی اقتصادی پابندیوں سے استثنیٰ دینے پر غور کرنے کے لیے تیار ہے لیکن ایسے ملکوں کو بتدریج ایران سے تجارت بند کرنا ہو گی۔

یہ بات امریکی وزیر خارجہ مائیک پوپیو نے جمعرات کو نئی دہلی میں انڈیا کی وزیر خارجہ سشما سوراج کے سات ’ٹو پلس ٹو‘ مذاکرات کے بعد کی۔

یہ بھی پڑھیے

کیا بھارت کی معیشت زوال پذیر ہے؟

امریکی وزیر دفاع جم میٹس کے ساتھ انڈیا کے دورے کے دوران اخبار نویسیوں سے بات کرتے ہوئے مائیک پومپیو نے کہا کہ ایرانی تیل کے خریداروں کو ایران سے اپنے تجارت تعلقات ختم کرنے میں کچھ وقت درکار ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرپپ کی طرف سے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی یک طرفہ تنسیخ کے بعد امریکہ نے ایران پر اقتصادی پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ ایران سے تجارت کرنے والے تمام ملکوں اور بین الاقومی کمپنیوں سے اپنے تجارتی مراسم منقطع کرنے کے لیے زور ڈال رہا ہے۔

اس سال اگست سے کچھ امریکی اقتصادی پابندیوں پر عملدرآمد شروع ہو گیا ہے جب کہ باقی پابندی جو پیٹرولیم مصنوعات کے بارے میں ہیں ان کا اطلاق نومبر کی چار تاریخ سے ہونا ہے۔ صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے جو ملک یا کمپنیاں ایران سے تجارت کریں گے ان سے امریکہ کسی قسم کے تجارتی تعلقات نہیں رکھے گا۔

مائیک پومپو نے کہا کہ 'جہاں ضروری ہے وہاں ہم استثنیٰ دینے کے لیے تیار ہیں لیکن ہم توقع کرتے ہیں کہ ہر ملک ایرانی تیل کی خریداری کو تبدریح صفر کر دے گا یا پھر اقتصادی پابندی کا سامنا کرے گا۔' انھوں نے کہا کہ اس بارے میں وہ پرعزم ہیں اور پوری طرح اپنے فیصلے پر عمل کرنے کے لیے تیار ہیں۔

صدر ٹرمپ کی طرف سے تمام تر دباؤ کے باوجود انڈیا میں حکام کا کہنا ہے کہ ان کے لیے ایران سے تیل کی خریداری کو بند کرنا ممکن نہیں ہے۔ انڈیا ایرانی تیل کا تیسرا بڑا خریدار ملک ہے۔ اس کے علاوہ وہ ایران میں چاہ بہار کی بندرگاہ پر وسطی ایشیا کے ملکوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش میں بھاری سرمایہ کاری بھی کر رہا ہے۔

مائیک پومپیو نے کہا کہ بہت سے ملکوں کی صورت حال ایسی ہے کہ انھوں ایران سے تیل کی خریداری کو مکمل طور پر بند کرنے کے لیے کچھ وقت درکار ہے اور امریکہ ایسے ملکوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔ انھوں نے کہا اگر ایرانی تیل کی جگہ امریکی مصنوعات کی خریداری کی جائے گی تو امریکہ کو اس پر مسرت ہو گی۔

گزشتہ ماہ انڈیا کی ایران سے تیل کی خریداری ایک تہائی رہ گئی تھی کیونکہ ایڈیا میں تیل صاف کرنے والے بڑے بڑے کارخانے حکومتی اشارے کے منتظر تھے۔

اس ہفتے انڈین سرکار نے تیل صاف کرنے والے کارخانوں کو ایرانی تیل کی خریداری اور ایرانی ٹینکروں کے استعمال کی اجازت دے دی تھی۔

انڈیا کے خریداروں کو ترغیب دینے کے لیے ایران قرض پر تیل حاصل کرنے کی شرائط میں نرمی اور تیل کی مفت ترسیل کرنے کے لیے تیار ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں