خاشقجی قتل کیس: ’ملزمان کے خلاف مقدمہ سعودی عرب میں چلایا جائے گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ STRINGER
Image caption بحرین میں ایک کانفرسنں میں خطاب کرتے ہوئے عادل الجُبیر نے اس معاملے میں مغربی میڈیا پر ’ہیجان‘ برپا کرنے کا الزام لگایا ہے۔

سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجُبیر نے کہا ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث افراد کے خلاف مقدمہ سعودی عرب میں ہی چلایا جائے گا۔

بحرین میں ایک کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجُبیر نے کہا کہ سعودی عرب پر الزام لگانے کی غرض سے مغربی میڈیا نے 'ہیجان' برپا کر رکھا ہے۔

ان کا یہ بیان ترکی کی جانب سے اس بیان کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے جس میں ترکی نے مطالبہ کیا تھا کہ اس قتل میں مبینہ طور پر ملوث اٹھارہ سعودی شہریوں کو اس کے حوالے کیا جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے

لاپتہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کون تھے؟

جمال خاشقجی: مبینہ سعودی ’ہٹ سکواڈ‘ میں کون کون شامل تھا؟

کیا اردوغان سعودی ولی عہد کی برطرفی چاہتے ہیں؟

سعودی صحافی خاشقجی کو تین ہفتے قبل استنبول میں سعودی قونصل خانے میں قتل کر دیا گیا تھا۔

سعودی عرب اس قتل میں شاہی خاندان کے ملوث ہونے سے انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اس میں 'خودسر ایجنٹ' ملوث ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ OZAN KOSE
Image caption صحافی خاشقجی کی منگیتر نے صدر ٹرمپ کے ساتھ ملاقات سے انکار کر دیا ہے

عادل الجُبیر نے بحرین میں سکیورٹی کانفرنس میں کہا کہ 'جہاں تک ملزمان کی حوالگی کی بات ہے تو وہ سعودی شہری ہیں، وہ سعودی عرب میں حراست میں ہیں، تحقیق اور ان کے خلاف مقدمہ بھی سعودی عرب میں ہی چلایا جائے گا۔'

ترکی اور سعودی عرب میں ملزمان کی حوالگی کا کوئی معاہدہ نہیں ہے۔

امریکی سیکریٹری دفاع کا کہنا ہے کہ صحافی خاشقجی کے قتل سے خطے میں ایک ایسے وقت پر استحکام کو خطرہ ہو سکتا ہے جب اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔'

خاشقجی کی منگیتر کیا کہتی ہیں؟

خاشقجی کی منگیتر خدیجہ چنگیز نے وائٹ ہاؤس مدعو کیے جانے کے باوجود یہ کہہ کر انکار کر دیا ہے کہ صدر ٹرمپ اس قتل کی تحقیقات میں سنجیدہ نہیں ہیں۔

ترک ٹی وی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں اس دعوت نامے کا مقصد امریکہ میں رائے عامہ پر اثر انداز ہونا تھا۔

جمعے کو ایک ٹی وی انٹرویو میں نم آنکھوں کے ساتھ انھوں نے اس دن کو یاد کیا جب ان کے منگیتر غائب ہوگئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کے علم میں ہوتا کہ 'سعودی انھیں قتل کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں' تو وہ انھیں کبھی بھی قونصل خانے میں جانے نہیں دیتیں۔

اسی بارے میں