سمندر پار انڈین شہریوں نے اس سال اسی ارب ڈالر انڈیا منتقل کیے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا کو اسی کروڑ ڈالر بیرون ممالک میں کام کرنے والے سے ملے

عالمی بینک کے مطابق سمندر پار بسنے والے انڈین باشندوں نے اس سال اندازاً اسی ارب ڈالر کی خطیر رقم اپنے ملک منتقل کی ہے جو بیرونی ممالک میں بسنے والے کسی بھی ملک کے لوگوں کی طرف سے اپنے آبائی وطن بھیجی جانے والی سب سے زیادہ رقم ہے۔

ورلڈ بینک کی مائگریشن اور ڈیویلپمنٹ بریف کے مطابق کم اور درمیانی آمدنی والے ملکوں کو بیرون دنیا سے اپنے شہریوں کی طرف سے بھیجی جانے والی رقوم میں سنہ 2018 میں قابل قدر اضافہ متوقع ہے جو اب تک کی ریکارڈ سطح پر پہنچ جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان میں ڈالر ’تاریخ کی بلند ترین سطح پر‘ پہنچ گیا

سعودی عرب نے کب کب پاکستان کی مدد کی؟

پاکستان کے زرمبادلہ کےذخائر کم ہو کر 12 ارب ڈالر رہ گئے

اس سال یعنی سنہ 2018 میں ترقی پذیر ملکوں کو مجموعی طور وصول ہونے والی رقم میں دس اعشاریہ آٹھ فیصد سے اضافہ ہونے کی توقع ہے جس کے بعد یہ 528 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔

انڈیا کے بعد سمندر پار سے اپنے شہریوں سے سب سے زیادہ زرمبادلہ وصول کرنے والے ملکوں میں چین کا نمبر آتا ہے جسے اس سال 67 ارب موصول ہوئے، اس کے بعد میکسیکو اور فلپائن ہیں جنہیں 34 ارب وصول ہوئے اور اس کے بعد مصر ہے جس کو 26 ارب ڈالر ملے۔

پاکستان بھی ان ملکوں میں شامل ہے جن کا زرمبادلہ کے حصول کا بڑا ذریعہ برآمدات کے بعد سمندر پار شہریوں کی طرف سے اپنے گھروں کو بھیجی جانے والی رقوم ہیں۔ پاکستان کو سنہ 2017 میں مجموعی طور پر سمندر پار پاکستانیوں کی طرف سے 19 ارب ڈالر کی رقم وصول ہوئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2018 میں پاکستان کو بیرون ممالک سے ملنے والی رقم میں مجموعی طور پر چھ اعشاریہ دو فیصد کا اضافہ ہوا ہے جو بنگلہ دیش کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ بنگلہ دیش میں یہ اضافہ تقریباً اٹھارہ فیصد رہا۔

انڈیا کو سنہ 2017 میں 65 ارب ڈالر وصول ہوئے تھے جو 20 فیصد اضافہ کے ساتھ بڑھ کر 80 ارب ڈالر تک پہنچ جانے کی توقع ہے۔

اگلے سال کے بارے میں پیش گوئی کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا کے ملکوں کو ملنے والی رقوم میں اضافے کی شرح اس سال کے مقابلے میں کم رہے گی۔ عالمی بینک کا کہنا ہے کہ ترقی یافتہ ملکوں میں شرح نمو اور خلیج کے ملکوں میں مائگریشن میں کمی کے علاوہ تیل کی قیمتوں کی وجہ سے سنہ 2019 میں بیرون ممالک کے محصولات زر کی شرح ساڑھے چار فیصد کے قریب رہے گی۔

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کہہ چکے ہیں کہ اگر سمندر پار بسنے والے تمام پاکستانی بینکوں کے ذریعے اپنی رقوم پاکستان منقتل کریں تو پاکستان کو سالانہ 40 ارب ڈالر اس مد میں مل سکتے ہیں۔

عالمی بینک نے رقم کی منتقلی پر آنے والے اخراجات کے بارے میں کہا کہ فی الوقت ہر دو سو ڈالر منتقل کرنے پر اوسطً چھ اعشاریہ نو فیصد خرچ ہوتے ہیں۔ عالمی بینک کے اپنے اہداف کے مطابق سنہ 2030 تک اس خرچے کو کم کرے تین فیصد پر لانا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

عالمی بینک کے سنہ 2030 کے ترقیاتی ایجنڈے کے سینئر نائب صدر محمود محی الدین کا کہنا ہے ٹیکنالوجی میں ترقی کے باوجود رقم منتقل کرنے پر ادا کی جانے والی فیس بہت زیادہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نئے طریقوں اور مسابقت کی فضا پیدا کر کے اس کو کم کیا جا سکتا ہے۔

جنوب مشرقی ایشیا کو منتقل کی جانے والی رقوم پر وصول کی جانے والی فیس دنیا کے باقی خطوں کے مقابلے میں کم ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا رقم کی منتقلی کی اوسطً فیس پانچ اعشاریہ چار فیصد ہے۔

رپورٹ میں ایک اور عنصر کی نشاندہی کی گئی ہے جس کا بیرون ملکوں سے بھیجنے والی رقوم پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مزدور یا کم ہنر مند افراد کی بھرتیوں پر بہت زیادہ خرچہ آتا ہے۔

رپورٹ مرتب کرنے والے ماہرین میں شامل دلیپ رتھا کا کہنا ہے کہ کبھی کبھار مزدوروں کو بھرتی کرنے والی رقم ان مزدوروں کی دو سال کی اجرت سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس خرچے کو کم کرکے محصولاتِ زر میں قابل قدر اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں