ٹماٹر لاہور میں تین سو روپے امرتسر میں بیس روپے فی کلو

تصویر کے کاپی رائٹ RAVINDER SINGH ROBIN / BBC

پاکستان اور انڈیا کے درمیان باہمی تجارت کا حجم 2591 ارب روپے سالانہ تک بڑھائے جانے کی گنجائش ہے لیکن کشیدہ تعلقات کے باعث اس وقت یہ تجارت صرف 140 ارب روپے سالانہ پر کھڑی ہے۔

جنوب مشرقی ایشیا کے ان دو اہم ہمسایہ ملکوں کے درمیان تجارت کے بارے میں عالمی بینک نے یہ اعداد و شمار اپنی حالیہ رپورٹ 'گلاس ہاف فل، دی پرامس آف ریجنل ٹریڈ ان ساوتھ ایشیا‘ میں دیے ہیں۔

عالمی بینک کی اس رپورٹ میں جو اندازے لگائے گئے ہیں ان کی بنیاد پاکستان اور انڈیا کے درمیان واہگہ یا اٹاری سرحد کے ذریعے ہونے والی تجارت کی بنیاد پر لگائے گئے ہیں۔

سرحد پر پابندیوں کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان زرعی پیداوار خاص طور پر سبزیوں اور پھلوں کی تجارت میں مشکلات پیش آتی ہیں۔

زرعی پیداوار کی تجارت پر پابندیاں

زرعی پیداوار کی تجارت پر پابندیوں اور مشکلات کے باعث انڈیا میں کسان اپنی پیداوار انتہائی سستے داموں فروخت کرنے پر مجبور ہیں جبکہ سرحد کے دوسری طرف صارفین کے پاس یہی پھل، سبزیاں اور زرعی اجناس انتہائی مہنگے داموں خریدنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔

سادہ الفاظ میں دونوں ملک کے درمیان تنازعات کی سب سے زیادہ قیمت عام لوگوں کو ادا کرنی پڑتی ہے۔

انڈیا میں کسانوں پر سنہ 2017-18 سے پھل اور سبزیاں اٹاری کے ذریعے برآمد کرنے پر پابندی ہے۔

قبل ازیں سنہ 2015-16 اور سنہ 2016-17 میں بالترتیب 338 کروڑ روپے اور 369 کروڑ روپے کی سبزیاں اور پھل پاکستان برآمد کیے گئے۔

سنہ 2015-16 میں کل 6057 ٹرک اٹاری کے راستے انڈیا سے پاکستان گئے۔ جن کے ذریعے 124277 میٹرک ٹن سبزیاں پاکستان بھیجی گئیں۔ اس کے علاوہ 646 ٹرکوں کے ذریعے 65 کروڑ روپے مالیت کی 2608 میٹرک ٹن سویابین درآمد کی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ RAVINDER SINGH ROBIN / BBC

مالی سال 2016-17 میں انڈیا نے 146149 میٹرک ٹن سبزیاں پاکستان کو فروخت کئیں جن کی کل مالیت 360 کروڑ روپے بنتی ہیں۔

پاکستان سے انڈیا برآمد کی جانے والی اشیا میں خشک میواجات، سیمنٹ، گلاس، سوڈا، نمک اور المیونیم شامل ہیں۔

سنہ 2015-16 میں پاکستان سے 186000 میٹرک ٹن اشیاء برآمد کی گئیں جن کی کل مالیت 2014 کروڑ روپے بنتی ہے اور انھیں 39830 ٹرکوں پر لاد کر انڈیا پہنچایا گیا۔

امرتسر میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان تجارت کے ادارے کے صدر راج دیپ اوپل نے بی بی سی کو بتایا کہ سبزیوں کی تجارت پر پابندی کی وجوہات تکنیکی مشکلات سے زیادہ سیاسی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ گزشتہ سال ایک موقع پر پاکستان میں ٹماٹروں کی قیمت 300 فی کلو تک پہنچ گئی تھی جب کہ لاہور سے صرف 40 کلو میٹر دور امرتسر میں ٹماٹر کے دام 20 روپے فی کلو کے برابر تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ RAVINDER SINGH ROBIN / BBC

انھوں نے کہا کہ سبزیوں کی برآمدات پر پابندی کی قیمت پاکستان کے صارفین کو ادا کرنی پڑ رہی ہے۔

اوپل کی طرح ورلڈ بینک کا بھی یہ ہی کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت میں کمی کی بڑی وجہ باہمی عدم اعتماد، کشیدہ تعلقات ہیں اور اس کے علاوہ کسٹم ڈیوٹیز بھی اثر انداز ہوتی ہے۔

راج دیپ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں موسم کی وجہ سے ٹماٹروں اور پاز کی کاشت بعض اوقات کم ہوتی ہے اور پاکستان ٹماٹر اور پیاز انڈیا کے بجائے دوسرے ملکوں سے درآمد کرتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ٹماٹر بعض اوقات امرتسر میں بیس روپے فی کلو فروخت ہوتے ہیں تو لاہور میں تین سو روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہوتے ہیں

عالمی بینک کی تحقیق کے مطابق مشرقی ایشیا اور بحرالکاہل کے ملکوں میں باہمی تجارت کا حجم اس خطے کے ملکوں کی کل تجارت کا پچاس فیصد ہے۔ افریقی ممالک کی مجموعی تجارت کا بائیس فیصد حصہ ان ملکوں کی باہمی تجارت پر مشتمل ہے۔ جبکہ جنوبی مشرقی ایشیا کے ملکوں کی باہمی تجارت باقی دنیا سے اس خطے کے ملکوں کی تجارت کا صرف پانچ فیصد بنتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جوائنٹ کمشنر آف انڈین کسٹم اینڈ سینٹرل ایکسائز ڈیوٹی دیپت کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان سزیاں اور اس طرح کی دوسری چیزیں واہگہ اور اٹاری کے راستے درآمد نہیں کر رہا۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت نے اس پابندی کی کوئی وجہ بیان نہیں کی ہے۔

انڈیا نے پاکستان کو سنہ 1998 میں تجارت کے لیے اہم ترین ملک کا درجہ دے دیا تھا لیکن پاکستان اس طرح کا اقدام کرنے پر تیار نہیں ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان کو انڈیا اور افغانستان کے درمیان زمینی راستے سے تجارت پر بھی تحفظات ہیں اور وہ دونوں ملکوں کو باہمی تجارت کے لیے راہداری دینے پر تیار نہیں ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں