جب عمران خان کا مداح راہل گاندھی کے جلسے میں پہنچ گیا

تصویر کے کاپی رائٹ Amna Khaishgi
Image caption دبئی کرکٹ سٹیڈیم میں راہل گاندھی کے جلسے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی

لگتا ہے ہندوستان میں بھی تبدیلی آنے والی ہے، یہ خیالات تھے، پشاور سے تعلق رکھنے والے ٹیکسی ڈرائیور نور محمد کے، جو شارجہ سے ایک سواریاں لے کر جمعے کی سہ پہر دبئی کرکٹ سٹیدیم آئے تھے۔

’شارجہ سے ایک انڈین خاندان کو لے کر میں دبئی کرکٹ سٹیڈیم آیا۔ راستے میں سواری نے مجھے یہاں کے جلسے کا بتایا۔ مجھے بڑی حیرانی ہوئی۔ میں تو سمجھ رہا تھا کہ یہ لوگ، کرکٹ کا میچ دیکھنے جا رہے ہیں۔ مگر یہاں تو کوئی اور ہی میچ لگا ہوا ہے۔ یہاں کی رونق دیکھ کر میں نے سوچا کہ چلو کچھ دیر میں بھی لطف اندوز ہوں لوں۔‘

50 سالہ نور محمد، بیس برس سے امارات میں ٹیکسی چلا رہے ہیں۔ وہ اور ان کا پورا خاندان پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے شیدائی ہیں۔

’جب سے ملک میں تبدیلی آئی ہے، میرا دل یہاں نہیں لگ رہا۔ بس جلد ہی میں واپس جاکر پشاور میں اپنی ٹیکسی چلاؤں گا۔‘

جمعے کا دن نور محمد کے لیے ہی انوکھا نہیں تھا۔ بلکہ امارات میں رہنے والے، خاص طور پر دبئی میں رہنے والے ہندوستانیوں کے لیے بہت خاص تھا۔

یہ بھی پڑھیے

راہل گاندھی کا 'پپو' ٹیگ ختم!

راہل گاندھی کی بہن پرینکا گاندھی کہاں غائب ہیں؟

راہل گاندھی کی ایک ہزار ڈالر کی جیکٹ

راجیو گاندھی کے قاتل رہا ہوں گے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Amna Khaishgi
Image caption راہل گاندھی امارات کے دو روزہ دورے پر تھے

آج پہلی دفعہ، انڈین کانگریس پارٹی کے صدر راہل گاندھی امارات میں ہندوستانیوں سے خطاب کر رہے تھے۔

راہل ایک دن پہلے، جمعرات کو دبئی پہنچ تھے۔ کیا والہانہ استقبال تھا۔ ایسا تو کبھی شاہ رخ خان کا بھی نہیں ہوا تھا۔ بھرپور پروٹوکول میں راہل گاندھی جب ائرپورٹ سے باہر آئے تو مجمع دیکھ کر پریشان تو ضرور ہوئے ہوں گے کہ کہیں پائلٹ واپس دلی تو نہیں لے آیا؟ مگر مجمعے کو حد کے دائرے میں دیکھ کر یقین آگیا ہوگا کہ یہ ہندوستان نہیں ہے۔

جہاں جہاں مودی، وہاں وہاں راہل

جمعے کی صبح، ’راہل بابا‘ پہلے لیبر کیمپ گئے تاکہ غریب مزدوروں کا حال احوال پوچھیں اور پھر امیر ہندوستانیوں سے ملنے ان کی بزنس ایسوسیشن گئے۔ آخر میں جلسے سے قبل، دبئی کے رہنما شیخ محمد بن راشد سے بھی ملاقات کی۔

بس یوں سمجھیں تین سال قبل جو جو وزیر اعظم مودی جی نے کیا تھا، یہ جمعہ بلکل اس کا عکس تھا۔

مزے کی بات یہ ہے کہ تین سال پہلے یہاں کے ہندوستانیوں نے جتنی محبت مودی کو دی تھی، اسی طرح وہ آج راہل پر بھی نچھاور کر رہے تھے۔

لگ رہا تھا فلم ریوائینڈ ہورہی ہے۔ وہی حد نظر لوگوں سے بھرا ہوا جلسہ، اسی کرکٹ سٹیڈیم میں جہاں چالیس ہزار کے قریب لوگ سما سکتے ہیں۔ تالیوں اور نعروں کی گونج وہی تھی، بس فرق تھا تو نعروں کے الفاظ کا۔

ایک اور فرق تھا، راہل گاندھی کی تقریر۔ راہل نے تقریر ہندی کے بجائے، انگریزی میں کی۔ شاید اس لیے کہ بہت سارے حاضرین کا تعلق شمالی ہندوستان سے تھا، جہاں ہندی زیادہ سمجھی اور بولی نہیں جاتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Amna Khaishgi

راہل گاندھی کی تقریر

اپنی چالیس منٹ کی تقریر میں راہل گاندھی نے امارات اور یہاں کے لوگوں کی محبت کا ذکر کیا۔ اس سال امارات میں سالِ ایثارِ محبت و باہمی منایا جارہا ہے۔ راہل نے اسی بات کو بہت مہارت سے پیش کیا۔

’یہاں سب لوگ محبت اور ایثار کا سال منا رہے ہیں۔ اور ہمارے ملک میں ساڑھے چار سال سے نفرت کا سال منایا جارہا ہے۔‘

لوگوں نے اس بات پر خوب تالیاں بجائیں۔

راہل گاندھی نے ایک بار بھی مودی یا بی جے پی کا نام نہیں لیا۔ مگر ہندوستان میں پھیلی ہوئی بیروزگاری اور زرعی بدحالی کا ذکر ضرور کیا۔’جس طرح آپ سب نے دبئی میں محنت کر کے اس ملک کو ترقی دی، بس اسی طرح آپ اپنے ہندوستان میں بھی تبدیلی لائیں۔ ہم سب کو آپ کی بہت ضرورت ہے۔‘

راہل نے ہندوستانی تارکین وطن کے لیے راجہ سبھا میں مخصوص نشستیں دینے کا بھی اعلان کیا۔ اور ایک خاتون کے سوال پر آندھرا پردیش کو سپیشل سٹیس دینے کا بھی اعلان کیا۔

راہل نے ہندوستان کے شاندار ماضی اور ثقافت کا بھی ذکر کیا جہاں، مسلمان، ہندو، عیسائی، سکھ اور باقی سب مل جل کر رہتے تھے۔ راہل نے وعدہ کیا کہ وہ شاندار ہندوستان واپس لاکر رہیں گے، بس اس سال الیکشن تک لوگوں کو انتظار کرنا ہوگا۔

تبدیلی کا میلہ

سٹیدیم کے اندر جو میلہ تھا وہ الگ، باہر روڈ پر بھی ہزاروں افراد کھڑے انتظار میں تھے کہ کب اجازت ملے اور اندر جائیں۔ مگر مقامی انتظامیہ نے سٹیڈیم بھر جانے کے بعد، اندر داخلے پر پابندی لگا دی۔ پھر کیا تھا، باہر بھی ایک میلہ سج گیا تھا۔

اسی میلے کو دیکھ کر نور محمد کو اپنا پشاور کا عمران خان کا جلسہ یاد آگیا تھا۔ انھوں نے جب لوگوں کو باہر ناچتے اور نعرے لگاتے دیکھا تو خود کو روک نہ سکے۔ اور اپنے موبائل پر وہی مشہور گانا لگا کر ناچنے لگے ’روک سکو تو روک لو ، تبدیلی آئی ہے، تبدیلی آئی ہے۔۔۔‘

تبدیلی تو تبدیلی ہے۔ پاکستان میں آئے یا ہندوستان میں۔

اسی بارے میں