جے این یو یونیورسٹی کے سابق سٹوڈنٹ لیڈر پرغداری کا مقدمہ

تصویر کے کاپی رائٹ Hindustan Times
Image caption جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے سابق سٹوڈنٹ لیڈر کنہیا کمار مودی سرکار کے خلاف تقاریر کیا کرتے تھے

انڈیا کی پولیس نے دلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے سابق سٹوڈنٹ لیڈر کنہیا کمار اور خالد عمر سمیت دس طلبا کے خلاف تین برس پرانے معاملے میں غداری کا مقدمہ دائر کیا ہے۔

کنہیا کمار نے کہا ہے کہ پارلیمانی انتخابات سے سے ذرا پہلے مقدمہ دائر کیے جانے سے یہ ظاہر ہے کہ اس کے پیچھے سیاست کارفرما ہے۔

دلی پولیس نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے سابق طلبا کنہیا کمار، خالد عمر اور انر بھان بھٹا چاریہ اور سات کشمیری طلبہ کے خلاف فروری 2016 میں یونورسٹی کیمپس میں ایک پروگرام کے دوران مبینہ طور پر 'ملک دشمن ' نعرے لگانے کے الزام میں میٹروپولیٹن مجسٹریٹ کی عدالت میں 12 ہزار صفحات پر مشتمل فرد جرم داخل کی ہے۔ عدالت اس فرد جرم پر کل غور کرے گی ۔

تصویر کے کاپی رائٹ JNU
Image caption دلی کے اقلیتی کمیشن نے بھی جے این یو سے پوچھا ہے کہ کیا اس نے کورس شروع کرنے کے ممکنہ مضمرات کا جائزہ لیا ہے؟

پولیس جرائم کے معاملات میں عمومآ تین مہینے میں عدالت میں فرد جرم داخل کرتی ہے ۔ اس معاملے میں پولیس نے تفتیش میں تین برس لگائے ہیں ۔ کنہیا کمار نے کہا 'اب جب کہ پارلیمانی انتخابات قریب ہیں ، تین برس بعد ان کے خلاف فرد جرم داخل کیے جانے سے یہ واضح ہے کہ اس کے پیچھے سیاست کی کارفرمائی ہے۔''

کنہیا نے دلی پولیس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 'مجھے عدلیہ پر پورا بھروسہ ہے ۔ اس کیس کی تیز رفتار سماعت ہونی چاہئیے ۔اب دودھ کا دودھ اور پانی کاپانی ہو جائے گا۔ مودی حکومت کی سیاسی سازش کا پردہ فاش ہو گا'

کنہیا کمار کا تعلق کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی سٹوڈنٹ ونگ اے آئی ایس ایف سے ہے ۔ ان کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ پارلیمانی انتحابات میں بہار سے سی پی آئی کے امیدوار ہونگے

ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس کی سٹوڈنٹ شاخ اے بی وی پی کے ذریعے درج کرائی گئی رپورٹ کے مطابق جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں نو فروری 2016 کو پارلیمنٹ پر حملے کے مجرم افضل گرو کی پھانسی کے خلاف احتاج کرنے کے لیے ایک پروگرام منعقد کیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق اس پروگرام میں کنہیا اور دیگر طلبا نے ملک مخالف نعرے لگائے تھے ۔ یہ سبھی طلبا اس الزام سے انکار کرتے رہے ہیں ۔ اے بی وی پی کی شکایت کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے پروگرام کا اجازت نامہ منسوخ کر دیا تھا ۔ لیکن طلبہ نے منسوخی کے باوجود یہ پروگرام منعقد کیا تھا۔ پولیس نے کنہیا کمار، عمر خالد اور انربان کو 2016 میں گرفتار کیا تھا۔ بعد میں انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ کنہیا اس وقت سٹوڈنٹ یونین کے صدر تھے۔

پولیس نے عدالت میں داخل کی گئی چارج شیٹ میں ان طلبا کے خلاف کئی ویڈیو فوٹیج اور متعدد طلبا اور گواہوں کے بیانات جمع کیے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ JNU
Image caption جمعیت العلما ہند نے اسے دہشت گردی کو اسلام سے جوڑنے کی کوشش قرار دیا ہے

جے این یو کے اس واقعے کے بعد یونیورسٹی کے خلاف بی جے پی اور دائیں بازو کی تنظیموں نے ایک مہم چھیڑ دی تھی۔ وزرا اور ہندو تنظیموں کے رہنما اسے ملک دشمن سرگرمیوں کا مرکز قرار دے رہے تھے۔

جے این یو اپنی بائیں بازو اور ترقی پسند رحجانات کے لیے پہچانی جاتی ہے۔ اس کا شمار ملک کے چند بہترین تحقیقی اداروں میں کیا جاتا ہے۔ روایتی طورپر یہ یونویرسٹی ہندوتوا اورمزہبی قوم پرستی کے تصورات کے خلاف رہی ہے۔

یہ یونیورسٹی ابتدا سے ہی (رائٹ ونگ) دائیں بازو کے نشانے پر رہی ہے۔ بی جے پی کی حکومت کے قیام کے بعد اس یونیورسٹی کے داخلے، انتظام، درس وتدریس کے نظام اور طلبا کے داخلے میں زبردست تبدیلیاں کر دی گئی ہیں ۔ یونیورسٹی کے اساتذہ ان تبدیلیوں کی مخالفت کر رہے ہیں۔

چند ہفتے قبل دنیا کے کئی نوبل انعام یافتہ سائسدانوں، دانشوروں، ادیبوں اور ایکیڈ مکس نے انڈیا کے وزیر تعلیم سے اپیل کی تھی وہ اس یونیورسٹی کو تباہ ہونے سے بچائیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں