بلوچستان: لورالائی میں ڈی آئی جی کے دفتر پر حملہ، نو افراد ہلاک

گوگل میپس تصویر کے کاپی رائٹ Google Maps
Image caption لورالائی کا نقشہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر لورالائی میں ڈپٹی انسپیکٹر جنرل آف پولیس کے دفتر پر ہونے والے حملے میں کم از کم نو پولیس اہلکار ہلاک اور21 سے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

زخمیوں میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

لورالائی پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب پولیس میں نئی بھرتیوں کے سلسلے میں کافی تعداد میں لوگ ڈی آئی جی دفتر میں جمع تھے۔

بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ ایک خودکش حملہ آور نے اپنے آپ کو دفتر کے گیٹ پر دھماکہ خیز مواد کے ذریعے اڑا دیا جبکہ دیگر دو حملہ آور وفتر کے کمپاؤنڈ میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے

لورالائی میں چھاؤنی پر حملہ، حملہ آوروں سمیت آٹھ ہلاک

دہشتگردی: بلوچستان میں اضافہ، باقی ملک میں کمی

بلوچستان: عسکریت پسند تنظیموں کی ’مشترکہ کارروائی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فائل فوٹو

ان کا مذید کہنا تھا کہ اس حملے میں کم از کم نو پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جبکہ پولیس اور دیگر سیکورٹی اداروں کی کارروائی میں حملہ آور بھی مارے گئے۔

لورالائی میں ایک پولیس اہلکار کے مطابق اس حملے میں 21 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ دھماکے میں زخمی افراد میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی ہے۔

لورالائی میں رواں مہینے کے دوران شدت پسندی کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل ایک حملے میں ایدھی فاؤنڈیشن لورالائی کے انچارج بازمحمد عادل بھی مارے گئے تھے۔ یکم جنوری کو لورالائی میں فرنٹیئر کور کے تربیتی مرکز پر بھی چار مسلح افراد نے حملہ کیا تھا جس میں چار سیکورٹی اہلکار مارے گئے تھے۔

لورالائی شہر کوئٹہ سے شمال مشرق میں اندازاً 250 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور اس ضلع کی آبادی مختلف پشتون قبائل پر مشتمل ہے اور اس کی سرحدیں مغرب میں افغانستان سے متصل دو اضلاع ژوب اور قلعہ سیف اللہ سے ملتی ہیں جبکہ ژوب کی سرحد شمال میں جنوبی وزیرستان سے ملتی ہے۔

بلوچستان کے بلوچ آبادی والے شورش سے متاثرہ علاقوں کی بانسبت ان اضلاع میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہے تاہم بد امنی کے واقعات وقتاً فوقتاً پیش آتے رہتے ہیں۔ ماضی میں ان اضلاع میں شدت پسندانہ حملوں کی ذمہ داری طالبان اور دیگر مذہبی شدت پسند تنظیموں کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں