جموں میں کرفیو، مسلمانوں کی املاک جلانے کے واقعات

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈین سیکیورٹی فورسز کشمیر میں ہائی الرٹ پر ہیں

مسلح شورش کی 30 سالہ تاریخ میں بھارتی فورسز پر ہوئے سب سے بڑے حملے میں 46 سے زیادہ فورسز اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں مذہبی منافرت میں شدت پیدا ہو گئی ہے اور جموں میں مسلمانوں کو ہراساں کرنے اور ان کی املاک کو نذرآتش کرنے کے واقعات پیش آئے ہیں۔

جموں کے بیشتر مقامات پر جمعہ سے ہی کرفیو نافذ ہے، تاہم ہفتے کو بھی وہاں مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔ ان مظاہروں کی قیادت بھاجپا اور پینتھرز پارٹی کے رہنما کر رہے ہیں۔

پنتھرز پارٹی کے رہنما ہرش دیو سنگھ نے کہا ہے کہ "ہر بار وعدہ کیا جاتا ہے کہ پاکستان کو سبق سکھایا جائے گا، لیکن ہوتا کچھ نہیں ۔ اب ہم چپ نہیں بیٹھیں گے۔"

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جموں میں کرفیو کے دوران سیکیورٹی فورسز گشت کر رہی ہیں

جموں کے ساتھ ساتھ پنجاب، ہریانہ، چھتیس گڑھ اور دیگر ریاستوں میں مقیم کشمیری طلبا نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں وہاں ہراساں کیا جارہا ہے اور کشمیر واپسی جانے کے لیے مجبور کیا جارہا ہے۔

اس ساری صورتحال پر کشمیر میں بھی ردعمل ظاہر کیا جارہا ہے۔ آج سہ پہر لالچوک میں نوجوانوں نے مرکزی حکومت کے خلاف مظاہرہ کیا۔ تاجربرادری نے دن کے تین بجے احتجاجاً تجارتی سرگرمیاں معطل کردیں اور حکومت پر زور دیا کہ وہ جموں اور دیگر ریاستوں میں مقیم کشمیریوں کی حفاظت کو یقینی بنائے۔ ٹریڈرس فیڈریشن لال چوک کے سربراہ بشیر احمد نے بتایا کہ جموں کی صنعت کا کشمیر کی مارکیٹ پر انحصار ہے، اور کشمیریوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ دو دن کے اندر بند نہیں کیا گیا تو " ہم جموں کا بائیکاٹ کریں گے۔"

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بھارت کی کئی ریاستوں میں کشمیریوں کو ہراساں کیے جانے کی شکایات موصول ہو رہی ہیں

سیاسی حلقوں نے بھی کشمیریوں کو ہراساں کئے جانے کے واقعات پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

سابق وزیراعلی محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ ماتم اور تعزیت کی بجائے ہندو کو مسلمان سے اور جموں کو کشمیر سے ٹکرانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ سابق وزیراعلٰی عمر عبداللہ نے بھی کشمیریوں کو درپیش فرقہ وارانہ نفرت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دونوں نے حکومت ہند سے اپیل کی کہ کشمیریوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ بعد میں حکومت ہند نے تمام ریاستوں کی حکومتوں سے کہ وہ کشمیریوں کو احساس تحفظ دلانے کے لیے مناسب اقدامات اُٹھائیں۔

سابق رکن اسمبلی انجنئیر رشید کا کہنا ہے کہ پلوامہ میں ہوئے حملہ کو فرقہ وارانہ رنگ دیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "واقعی یہ ایک افسوس ناک واقعہ تھا۔ ہم ہی جانتے ہیں کہ جوانوں کے اہل خانہ پر کیا گزر رہی ہے۔ لیکن جموں میں جو لوگ سی آر پی ایف جوانوں کی فکر میں فساد پر آمادہ ہے، انہیں اگر اتنی ہی فکر ہوتی تو ہلاک ہوئے جوانوں میں راجوری کا ایک جوان نصیر احمد بھی ہے، ان کے گھر جاتے اور تعزیت کرتے۔ اس کے برعکس نصیر کے گھر سے تھوڑے فاصلے پر مسلمانوں کو ہراساں کیا گیا۔"

واضح رہے سنہ 2008 میں بھی جموں کی ہندو اکثریت اور کشمیر کی مسلمان اکثریت کے درمیان امرناتھ شرائن بورڈ کو سرکاری زمین الاٹ کیے جانے کے معاملے پر فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔ تاہم بعد میں دونوں فرقوں کے نمائندوں کے درمیان تصفیہ ہوگیا اور چھہ ماہ کی احتجاجی تحریک تھم گئی۔ اکثر حلقے کہتے ہیں کہ 2008 بھی الیکشن کا سال تھا اور اس سال بھی چند ماہ میں پارلیمنٹ اور اسمبلی کے لیے انتخابات ہونے والے ہیں۔

غورطلب ہے 14 فروری کو جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں جموں سرینگر شاہراہ پر بھارتی نیم فوجی سی آر پی ایف کے قافلے پر خودکش کاربم حملہ ہوا جس میں 40 سے زیادہ فورسز اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ۔ فوج کے مطابق آج بھی راجوری ضلع میں ایل او سی کے نوشہرہ سیکٹر میں ایک بارودی سرنگ دھماکے میں بھارتی فوج کا ایک میجر اور ایک فوجی ہلاک ہوگئے۔

اسی بارے میں