فواد چوہدری پر پریس کلبوں کے دروازے بند

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

فواد چوہدری پاکستان کے پہلے وفاقی وزیر اطلاعات بن گئے ہیں جن کے داخلے پر ملک کے تمام بڑے پریس کلبوں نے پابندی عائد کر دی ہے اور ان کی پریس کانفرنسوں کے بائیکاٹ کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

سنیچر کے روز ملک کے مختلف پریس کلبوں نے علیحدہ علیحدہ فیصلوں میں اس پابندی کا اعلان کیا ہے۔ ملک کے سب سے پرانے کراچی پریس کلب کے صدر امتیاز خان فاران نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ فیصلہ کچھ عرصے سے ملک بھر میں میڈیا ہاؤسز سے صحافیوں کی برطرفیوں اور تنخواہوں کی عدم ادائیگیوں پر وفاقی حکومت کی خاموشی کی وجہ کیا گیا ہے۔

کراچی پریس کلب کے صدر امتیاز خان فاران کا کہنا ہے 'وفاقی وزیر اطلاعات کئی تقریبات میں روایتی میڈیا کے بے اثر ہو جانے کی بات کر چکے ہیں اور وہ مالکان پر زور ڈال رہے ہیں کہ وہ ڈجیٹل میڈیا کو اپنی ترجیح بنائیں۔'

یہ بھی پڑھیے

سوشل میڈیا پر منافرت پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی

’ریاستی اداروں‘ کے خلاف ٹویٹس کرنے پر صحافی گرفتار

فواد چوہدری کا معافی مانگنے سے انکار۔ جھگڑا کیا ہے؟

لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری نے بی بی سی کو بتایا 'وفاقی وزیرِ اطلاعات نے ملک بھر میں صحافیوں کے احتجاج اور تنخواہیں ادا نہ کرنے والے نشریاتی اداروں کے مائیک اٹھائے جانے کے بعد ملک کی صحافتی تنظیموں کے نمائندوں کو ملاقات کے لیے اسلام آباد میں اپنے دفتر بلایا تھا لیکن تین گھنٹے انتظار کرانے کے بعد ان سے بغیر ملے دفتر سے چلے گئے۔'

ارشد انصاری کا کہنا ہے کہ لاہور پریس کلب کے ممبران نہ صرف فواد چوہدری بلکہ کسی بھی وفاقی وزیر کی پریس کانفرنس کا بائیکاٹ کریں گے۔ انھوں نے شیخ رشید کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انھیں حیدرآباد اور کراچی میں پریس کانفرنس نہیں کرنے دی گئی۔

نیشنل پریس کلب کے صدر شکیل قرار نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات کے داخلے پر پابندی کا فیصلہ اس لیے کیا جا رہا ہے کہ 'ملک بھر میں صحافیوں کو بے روزگار کیا جا رہا ہے اور وفاقی وزارت نہ صرف خاموش ہے، مسئلے کے حل میں اپنا کرادر نہیں ادا کر رہی بلکہ بے حسی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔'

ان کے مطابق جو معاملہ تنخواہیں ادا نہ کرنے والے چینلوں کے مائیک اٹھانے سے شروع ہوا تھا وہ اب بائیکاٹ اور کلبوں میں داخلے پر پابندی تک پہنچ گیا ہے۔

کراچی پریس کلب کے صدر امتیاز خان فاران کا کہنا ہے کہ روایتی میڈیا کے کردار کو بے اثر کہنا اس بات کا ادراک ہے کہ حکومت قومی بیانیے کو روایتی میڈیا پر پھیلانا نہیں چاہتی۔

لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری کا کہنا ہے کہ اگر میڈیا کے نمائندوں کو دیوار سے لگایا گیا تو وہ میڈیا ہاؤسز کے مالکان اور حکومت کے خلاف احتجاج کریں گے۔

واضح رہے کہ صوبہ سندھ میں کراچی، حیدرآباد اور سکھر پریس کلبوں نے وفاقی وزیر اطلاعات کےداخلے پر پابندی لگائی ہے جبکہ صوبہ پنجاب میں لاہور پریس کلب، صوبہ بلوچستان میں کوئٹہ پریس کلب اور صوبہ خیبر پختونخوا میں پشاور پریس کلب اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب نے یہ پابندی عائد کی ہے۔

اسی بارے میں